خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 500 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 500

خطبات طاہر جلدے 500 خطبہ جمعہ ۵ار جولائی ۱۹۸۸ء جلسے کا انتظام بعض چیزیں خصوصیت سے جلسے کی خاطر بناتا ہے اور وہ تقسیم کی جاتی ہیں مثلاً قادیان اور ربوہ میں ہم بالٹیاں سالن کیلئے اور بڑے کڑ چھے وغیرہ یہ تقسیم کر دیا کرتے تھے تا کہ لوگ اپنے مہمانوں کے لئے استعمال کریں اور بعد میں واپس کر دیں۔یہ جو وا پسی والا حصہ ہے یہ تکلیف دہ ہے۔بعض لوگ واپسی میں اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتے اور یہ کچھ قومی عادت بھی ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جو چیز ایک دفعہ آگئی ہے ہمارے گھر میں ہے بس ٹھیک ہے کوئی بات نہیں اب اس کو کیا واپس کرنا ہے، جماعت کی چیز ہے اپنا گھر ہے۔یہ جائز بات نہیں ہے۔جماعت کی چیز امانت ہے آپ کے پاس اگر آپ کو تحفہ دی جاتی ہے تو ٹھیک ہے شوق سے رکھیں لیکن جب تک امانت آپ کے پاس پڑی رہتی ہے آپ کو بے چین رہنا چاہئے۔یہ روح پیدا کریں ورنہ آپ کے روز مرہ کے اخلاق میں بھی امانت کا معیار گر جائے گا۔نظام جماعت میں اگر آپ امین نہیں بنیں گے تو باہر کہاں امین بن سکتے ہیں۔میں نے ایک دفعہ جب جائزہ لیا گزشتہ سال کے تجارب کا تو بنگوی صاحب نے مجھے ایک بات بتائی جس سے بڑی تکلیف ہوئی کہ اس دفعہ ہمیں اتنے مزید ہیٹر خریدنے پڑیں گے میں نے کہا کہ کیوں؟ آپ نے پچھلے سال جو خریدے تھے کہ جی وہ تو اکثر دوستوں نے واپس ہی نہیں کئے کہیں اسلام آباد میں لوگوں کے پڑے ہوئے ہیں، کوئی کسی اور جگہ لے گیا ہے۔یہ تو بڑی گندی مثال ہے بہت ہی مجھے تکلیف ہوئی اس بات سے۔جماعت کی چیز ہے اس کو واپس کریں اگلے سال وہ کام آئے گی اور آپ کو شرم کیوں نہیں آتی روز مرہ دیکھتے ہیں اس کو اپنے گھروں میں استعمال کرتے ہیں یا نہیں کرتے اس سے بحث نہیں ہے۔چیز پڑی ہوئی ہے آپ کی چھاتی کے اوپر بوجھ رہنا چاہئے جب تک امانت کسی کے پاس پڑی ہوئی ہے اس وقت تک شدید بوجھ انسان کے اوپر رہتا ہے ذہنی طور پر۔یہ وہ نفسیاتی کمزوری ہے جو آگے معاشرے کو کئی قسم کی برائیوں سے بھر دیتی ہے اس کو معمولی نہ سمجھیں۔جن لوگوں کے اوپر امانت کا بوجھ نہیں ہوتا ان کے اوپر قرضوں کا بھی بوجھ نہیں ہوتا اور وہی لوگ ہیں جو پھر قرضے بھی ادا نہیں کرتے۔لے لیتے ہیں سمجھتے ہیں کوئی بات نہیں ہو گیا ایسے ایسے، پھر عجیب واقعات رونما ہوتے ہیں کہ ایسے لوگوں سے جب مانگی جائے چیز تو برا مناتے ہیں۔قرض خواہ بیچارا اپنا دیا ہوا پیسہ واپس مانگتا ہے اور وہ غصہ مناتے ہیں یہ کیا مصیبت ڈالی ہوئی ہے اس نے۔عذاب بنا ہوا ہے ہر وقت، کہہ دیا کہ نہیں تھے دے دیں گے دے دیں گے پھر آکے کہتا ہے دے