خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 45

خطبات طاہر جلدے 45 خطبه جمعه ۱۵ جنوری ۱۹۸۸ء سال کے اندر عین ممکن ہے کہ صد سالہ اظہار تشکر کا سال طلوع ہونے سے پہلے پہلے ان سب بزرگوں کے کھاتے زندہ ہو چکے ہوں۔ جلسہ سالانہ کے لئے دیگوں کی تحریک تھی عجیب بات ہے کہ میرے ذہن سے بالکل اتر ہی گئی تھی لیکن بعض خط لکھنے والوں کو یاد ہے وہ لکھ دیتے ہیں کہ میری فلاں دیگ کی تحریک میں اتنا روپیہ رہ گیا تھا خدا نے اب توفیق بخشی ہے۔ ابھی چند دن ہوئے مجھے ایک خط ملا میں حیران رہ گیا میں نے کہ مجھے تو یاد بھی نہیں تھاکہ یہ تحریک کب کی تھی۔ میرے خیال میں تحریک ہوئی بھی تھی اور دیگیں پوری بھی نہیں ہ میرے خیال میں بھی اور بھی ہوگئی تھیں۔ لیکن دلوں کی بعض آرزوئیں تو پوری نہیں ہوئیں ان کو اس سے غرض نہیں کہ دیگیں پوری ہوئی ہیں یا نہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل کی تمنا بھی ضرور پوری ہو چنانچہ وہ بھی لکھ رہے ہیں۔ اب ایسی جماعت دنیا میں کہیں مل سکتی ہے ؟ چراغ لیکر دھونڈنے کی مثال بیان کی جاتی ہے میں کہتا ہوں سورج لیکر ڈھونڈ وہ تمہیں ساری دنیا میں کہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے بڑھ کر قربانی کرنیوالے اور قربانی سے محبت کر نیوالی جماعت نہیں ملے گی اور یہ سب سے بڑا احسان ہے خدا کا ۔ اتنا عظیم احسان ہے کہ دن رات اس کا ذکر کیا جائے تب بھی طبیعت سیر نہیں ہو گی دن رات اس کا شکر ادا کیا جائے تو شکر کا حق آپ ادا نہیں کر سکتے ۔ ہم میں جو کچھ بھی ہے اسی قر بانی کے جذبے کے نتیجہ میں ہے۔ دونئے یورپین مراکز کی تحریک کے متعلق بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے یہی سلسلہ ہے ۔ افریقہ میں ریلیف فنڈ کیلئے اگر چہ جماعت کو اتنا روپیہ پیش کرنے کی توفیق نہیں ملی جتنا توقع کی گئی تھی لیکن اس میں جماعت کا قصور نہیں ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ خدا کی تقدیر خود بخود چل رہی ہوتی ہے ایک تحریک کی جائے اور بعض دفعہ اس تحریک کا مقصد پورا کرنے کی جماعت کو توفیق نہیں مل رہی ہوتی اور خود بخود وہ تحریک نظروں سے غائب ہو جاتی ہے ۔ افریقہ ریلیف فنڈ کے سلسلہ میں ہم نے ہر طرح سے کوشش کی کہ بھوک میں مبتلا افریقنوں کی مدد کے لئے جماعت کو اجازت ملے حکومتیں اجازت دیں، ذریعے میسر آئیں جس کے ذریعے ہم اُن تک یہ چیزیں پہنچا سکیں لیکن حکومتوں نے دروازے بند کئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومتوں سے گفتگو کریں گے اس سلسلہ میں انفرادی طور پر تم اپنی حکومتوں کو بے شک کچھ رقم پیش کر دو ۔ کچھ رقم جماعت نے حکومتوں کو پیش بھی کی لیکن جماعت