خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 45
خطبات طاہر جلدے 45 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۸۸ء سال کے اندر عین ممکن ہے کہ صد سالہ اظہار تشکر کا سال طلوع ہونے سے پہلے پہلے ان سب بزرگوں کے کھاتے زندہ ہو چکے ہوں۔جلسہ سالانہ کے لئے دیگوں کی تحریک تھی عجیب بات ہے کہ میرے ذہن سے بالکل اتر ہی گئی تھی لیکن بعض خط لکھنے والوں کو یاد ہے وہ لکھ دیتے ہیں کہ میری فلاں دیگ کی تحریک میں اتنا روپیہ رہ گیا تھا خدا نے اب توفیق بخشی ہے۔ابھی چند دن ہوئے مجھے ایک خط ملا میں حیران رہ گیا میں نے کہا مجھے تو یاد بھی نہیں تھا کہ یہ تحریک کب کی تھی۔میرے خیال میں تحریک ہوئی بھی تھی اور دیگیں پوری بھی ہوگئی تھیں۔لیکن دلوں کی بعض آرزوئیں تو پوری نہیں ہوئیں ان کو اس سے غرض نہیں کہ دیکھیں پوری ہوئی ہیں یا نہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل کی تمنا بھی ضرور پوری ہو چنانچہ وہ بھی لکھ رہے ہیں۔اب ایسی جماعت دنیا میں کہیں مل سکتی ہے ؟ چراغ لیکر دھونڈ نے کی مثال بیان کی جاتی ہے میں کہتا ہوں سورج لیکر ڈھونڈ وہ تمہیں ساری دنیا میں کہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے بڑھ کر قربانی کرنیوالے اور قربانی سے محبت کر نیوالی جماعت نہیں ملے گی اور یہ سب سے بڑا احسان ہے خدا کا۔اتنا عظیم احسان ہے کہ دن رات اس کا ذکر کیا جائے تب بھی طبیعت سیر نہیں ہوگی دن رات اس کا شکر ادا کیا جائے تو شکر کا حق آپ ادا نہیں کر سکتے۔ہم میں جو کچھ بھی ہے اسی قر بانی کے جذبے کے نتیجہ میں ہے۔دونئے یورپین مراکز کی تحریک کے متعلق بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے یہی سلسلہ ہے۔افریقہ میں ریلیف فنڈ کیلئے اگر چہ جماعت کو اتنا روپیہ پیش کرنے کی توفیق نہیں ملی جتنا توقع کی گئی تھی لیکن اس میں جماعت کا قصور نہیں ہے۔وجہ یہ ہے کہ خدا کی تقدیر خود بخود چل رہی ہوتی ہے ایک تحریک کی جائے اور بعض دفعہ اس تحریک کا مقصد پورا کرنے کی جماعت کو تو فیق نہیں مل رہی ہوتی اور خود بخود وہ تحریک نظروں سے غائب ہو جاتی ہے۔افریقہ ریلیف فنڈ کے سلسلہ میں ہم نے ہر طرح سے کوشش کی کہ بھوک میں مبتلا افریقنوں کی مدد کے لئے جماعت کو اجازت ملے حکومتیں اجازت دیں، ذریعے میسر آئیں جس کے ذریعے ہم اُن تک یہ چیزیں پہنچا سکیں لیکن حکومتوں نے دروازے بند کئے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومتوں سے گفتگو کریں گے اس سلسلہ میں انفرادی طور پر تم اپنی حکومتوں کو بے شک کچھ رقم پیش کر دو۔کچھ رقم جماعت نے حکومتوں کو پیش بھی کی لیکن جماعت