خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 46
خطبات طاہر جلدے 46 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۸۸ء احمدیہ کو اتنی توفیق ہے ہی نہیں کہ سب دنیا کی دنیاوی ضرورتیں پوری کر سکے یا خاطر خواہ حصہ اس میں ڈال سکے۔جماعت کی قربانی کو تو برکت اس لئے ملتی ہے کہ جماعت خود اپنے حاصل کردہ روپیہ کو خرچ کرتی ہے، اس میں کوئی بددیانتی نہیں ہوتی ، ہر منصوبے میں غیر معمولی برکت ملتی ہے، وسیع پیمانے پر رابطے پیدا ہوتے ہیں اور نئی نیکیوں کی توفیق ملتی ہے۔دنیا وی بھوک ہی نہیں ملتی بلکہ اس سے روحانی بھوک بھی دنیا کی مٹتی ہے اور جن تک جماعت احمد یہ دنیاوی احسان لیکر پہنچتی ہے اس کے پیچھے پیچھے روحانی احسان بھی خود بخود چلا آتا ہے تو ہمیں تو اس قسم کی تربیت ہے۔چنانچہ جب میں نے دیکھا کہ افریقہ میں باوجود کوشش کے جماعت کو خود غرباء تک پہنچ کر ان چیزوں کی تقسیم کرنے کی یا ان کے دکھ دور کرنے کے لئے کسی تنظیم کے طور پر حصہ لینے کی اجازت نہیں مل رہی تو میں نے بھی یاد نہیں کرایا اور جماعت بھی از خود بھول گئی جیسے ضرورت نہ رہی ہو تو خود بخو دایک چیز رفتہ رفتہ سو جاتی ہے۔اس طرح یہ تحریک سو گئی۔اس لئے اس کے مقابل پر چونکہ دوسری تحریکیوں میں باوجود توجہ نہ دلانے کے بھی غیر معمولی طور پر خدا تعالیٰ نے جماعت کے دل سے قربانی کو ابال اُبال کر نکالا ہے۔اس سے میں سمجھتا ہوں یہ بھی خدا کی تقدیر کے تابع ہی تھا اس میں جماعت کا کوئی قصور نہیں ہے کہ تحریک کی گئی اور اس میں جماعت پورا نہ اتری ہو۔پانچ امریکن مراکز کے قیام کے متعلق آپ جانتے ہی ہیں پانچ کی تحریک کی گئی تھی دس بنائے گئے دس سے بات آگے بڑھ کر اب پندرہ کے قریب ہو چکے ہیں اور ا بھی روپے کی ضرورت بھی ہے اور ابھی روپیل بھی رہا ہے اللہ کے فضل سے۔اور پہلے تو زمینیں حاصل کرنے کا دور تھا اب جماعت امریکہ یہ عزم لیکر آگے بڑھ رہی ہے کہ جہاں زمینیں حاصل ہوئی تھیں وہاں بہت ہی خوبصورت اور دلکش اور وسیع مساجد بھی بنائی جائیں۔یہ کام ایک دو جگہ تو مکمل ہو چکا ہے باقی جگہ ہورہا ہے۔اس سفر میں مجھے دو جگہ مکمل مساجد کے افتتاح کی توفیق ملی اور تین جگہ سنگ بنیاد رکھنے کی توفیق ملی۔وقف جدید کی تحریک کو ساری دنیا میں وسیع کرنے کا معاملہ بھی اسی قسم کا ہے کہ ہر سال خدا کے فضل سے جماعتوں کی طرف سے اضافہ کے ساتھ وعدے مل رہے ہیں اور نئے سے نئے لوگ شامل ہوتے چلے جارہے ہیں مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا ابھی تعداد بڑھانے کی بہت ضرورت