خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 464 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 464

خطبات طاہر جلدے 464 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء نہیں ہوا۔پھر بد بخت جمہوریت آگئی اس نے ستیا ناس کر دیا۔یہ ہے سارا تقریر کا خلاصہ اور نتیجہ۔نتیجہ یہ کہ تین مہینے کے اندر اندر میں دوبارہ جمہوریت نافذ کر دوں گا اور مارشل لاء کبھی نہیں آئے گا۔عجیب بات ہے حیرت انگیز نتیجہ نکالا جارہا ہے اگر مارشل لاء واقعی اسلام لیکر آیا تھا اور پاکستان میں صرف اسلام صرف ان آٹھ سال میں نظر آیا ہے جبکہ ان کا نافذ کردہ مارشل لاء تھا اور تین سال تک انہوں نے صبر کے ساتھ جمہوریت کے ساتھ گزارہ کیا اور دیکھتے رہے کہ شاید اس جمہوریت کی اصلاح ہو جائے اور اسلام قبول کرلے لیکن وہ بد بخت جمہوریت ہر غیر اسلامی قدر میں آگے بڑھتی چلی گئی اور کلیۂ غیر مسلموں والی حرکتیں کرتی رہی۔یہ ہے وہ صورت جوان کے تجزیے سے ظاہر ہورہی ہے۔یہ سب دیکھنے کے باوجود بلکہ یہ فیصلہ کرنے کے باوجود کہ ایسی خبیث جمہوریت کو زندہ نہیں رہنے دینا جو آٹھ سالہ اسلام لانے کی کوششوں کو تین سال میں ملیا میٹ کر دے اور اس جمہوریت کو واقعی مٹا دینے کے بعد اگلا اعلان یہ ہے کہ تین مہینے کے اندر میں دوبارہ جمہوریت نافذ کر دوں گا۔وہ جمہوریت کہاں سے آئے گی ؟ سوال یہ ہے کہ پہلی جمہوریت جس قوم کی مٹی سے بنی تھی وہی مٹی قوم کی پھر بھی رہے گی ، اسی مٹی کے خمیر سے اگلی جمہوریت نے پیدا ہونا ہے۔وہ کس طرح اسلام نافذ کر دے گی؟ اس لئے عجیب وغریب منطق ہے مجھے تو کچھ مجھ نہیں آتی کہ یہ اسلام کس طرح نافذ کر سکتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ غور نہیں کرتے جو لوگ اسلام نافذ کر سکتے تھے ان کے دشمن ہو گئے ہیں۔جنہوں نے اپنے اعمال سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔جن کو اسلام سے روکنے کے لئے قانون بنانے پڑتے ہیں اور قوانین کے باوجود اسلام سے نہیں رکتے ، ایک وہ لوگ ہیں۔ایک وہ لوگ ہیں جن کو اسلام پر نافذ کرنے کے لئے قوانین بنانے پڑتے ہیں اور قوانین بنانے کے باوجود اسلام پر عمل نہیں کرتے۔یہ سائیڈ کیوں نہیں بدل لیتے اپنی ، اگر اسلام سے سچی محبت ہے، دعووں میں بچے ہیں تو صرف طرف بدلنے والی بات ہے۔ادھر آ کر کھڑے ہو جائیں جہاں قانون بھی بنادئے جائیں تو اسلام پر عمل درآمد سے نہیں رکتے وہ لوگ۔جیلوں میں جاتے ہیں، ماریں کھاتے ہیں قتل ہوتے ہیں، ہر قسم کے انسانی حقوق سے محروم کئے جاتے ہیں، ہر قسم کے اقتصادی حقوق سے محروم کیے جاتے ہیں، تمدنی حقوق سے محروم