خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 460 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 460

خطبات طاہر جلدے 460 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء قبول کرلیں گے یہ درست نہیں ہے۔تو اب جماعت کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ با قاعدہ وہ چیلنج چھپوا لیا گیا ہے اور شرطیں بالکل واضح اور کھول کر بیان کر دی گئی ہیں اور عام دعوت دی گئی ہے علماء کو کہ جو بغور پڑھنے کے باوجود ان باتوں کو پھر بھی یقین رکھتے ہیں کہ جماعت احمد یہ جھوٹی ہے اور وہ بچے ہیں تو وہ اس چیلنج کو پھر قبول کریں اور اس کو شائع کریں۔اپنے دل میں قبول نہ کر بیٹھیں بلکہ شائع کریں اور وہ لوگ جو شرارت میں پیش پیش ہیں وہ اگر قبول اس طرح نہ بھی کریں اور شرارت سے باز نہ آئیں تو یہ بھی ان کا چیلنج قبول کرنے کے مترادف ہوگا۔تو ان دو باتوں کے پیش نظر ہمیں کچھ انتظار کرنا چاہئے۔جس قماش کے لوگوں نے قبول کیا ہے اس کی مثال میں دیتا ہوں اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ وہ قابل ذکر لوگ ہیں مثلاً ایک اللہ یا را رشد ہے جس قسم کے لوگوں کو ربوہ پر مسلط کیا گیا تھا کہ دن رات جھوٹ اور گند بک کر اہل ربوہ کے لئے روحانی اذیت کا موجب بنیں یہ ان کے سر براہ ہیں اور دن رات جھوٹ بولنا ان کا کام ہے۔پاکستان میں کہیں کوئی واقعہ ہو جائے دوسرے دن اللہ یار ارشد کا بیان چھپ جائے گا کہ یہ احمدیوں نے کروایا ہے۔ہتھوڑا گروپ بھی احمدی تھے قتل وغارت کے جو واقعات ہوئے وہ بھی احمدی کرواتے ہیں، جہاں دھما کہ ہوتا ہے وہ احمدی کرواتے ہیں۔کوئی ایسا واقعہ جو ملک اور قوم کے لئے تکلیف دہ ہو، پاکستان میں رونما ہوا ہو وہ ہر واقعہ اللہ یار ارشد صاحب کے نزدیک احمدی کرواتے ہیں یعنی جھوٹ کی فیکٹری لگی ہوئی ہے۔ایسا شخص جو کذب اور افتراء میں اس مقام کا انسان ہو یا اس مقام کی چیز ہو وہ یہ اعلان کرے کہ لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ اس کی حیثیت کیا ہے؟ ایسے لوگ اگر خدا کے عذاب کے نیچے پکڑے بھی جائیں اور پکڑے جاتے ہیں تو قوم ان کو محسوس بھی نہیں کرتی۔نہ ان کے آنے کو محسوس کرتی ہے نہ ان کے جانے کو محسوس کرتی ہے۔حالت یہ ہے افتراء کی کہ جن دنوں میں مباہلے کا چینچ قبول کر رہے ہیں انہی دنوں میں یہ اعلان شائع ہو رہا ہے ان کی طرف سے کہ قادیانیوں کی طرف سے صدر ضیاء کے خلاف مہم چلانے کے لئے بعض لیڈروں کو فنڈ ز فراہم کرنے کی پیشکش۔مرزا طاہر کی ہدایت پر خصوصی وفد تشکیل دے دیا گیا۔اندازہ کریں کہ اگر میں نے کوئی فنڈز مہیا کرنے تھے تو اللہ یا را رشد سے مشورہ کر کے مہیا کرنے تھے یا میرے وفد نے جاکے ان کی خدمت میں حاضر ہوکر