خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 459
خطبات طاہر جلدے 459 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء ائمۃ المکفرین کے امام کو انتباہ۔احمدیت اس قوم کی نجات اور ترقی کی ضمانت ہے خطبہ جمعہ فرمودہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: جب سے میں نے تمام دنیا کے مکذبین کو اور خصوصاً ان مکذبین کو جن کو ائمة المكذبين والمکفرین کہا جا سکتا ہے مباہلے کی دعوت دی ہے۔بہت سے احمدی سوال کرتے ہیں کہ کیا اس عرصے میں کسی نے اس مباہلے کی دعوت کو قبول کیا یا نہیں۔بعض علماء نے ضمنا ذکر تو کیا ہے بعض نے کچھ بہانہ جوئی بھی کی ہے مباہلے سے احتراز کیلئے لیکن جنہوں نے واضح طور پر اخبار میں اعلان کر کے اس مباہلے کے چیلنج کو یا دعوت کو قبول کیا ہے سر دست وہ ایسے قابل ذکر لوگ نہیں کہ جو قوم کے سامنے ایک نشان بن سکیں۔اس لئے اس موضوع پر کچھ کہنے سے پہلے ہمیں کچھ اور انتظار کرنا ہوگا۔دوسرے جماعت کی طرف سے با قاعدہ دس تاریخ کے جمعہ کا چینج چھپوا کر ان مخالفین کو پیش نہیں کیا گیا اور جو کچھ انہوں نے سنا ہے وہ شنید کے طور پر ہے ان کیلئے شرطیں ان کے سامنے معین ابھی پیش نہیں ہوئیں۔وہ جھوٹ جن کا میں نے ذکر کیا تھا تفصیل کے ساتھ کہ سب جھوٹے الزام ہیں ان کے متعلق اخبارات میں اس تفصیل سے خبریں شائع نہیں ہوئیں۔اس لئے جو معاندین ہیں، مخالفین ہیں ان کو بھی ان کا حق دینا چاہئے جب تک باقاعدہ ان تک تحریری صورت میں مباہلے کی تفصیل نہ پہنچے، ان کو مطالعہ کا موقع نہ ملے، اعتراض کا حق استعمال نہ کر سکیں اس وقت تک یہ امید رکھنا کہ سارے فوری طور پر اس دعوت کو