خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 453
خطبات طاہر جلدے 453 خطبه جمعه ۲۴ جون ۱۹۸۸ء اس طرح سمٹ گئے ہیں کہ تھوڑی سی جگہ میں بھرنے کے باوجود جگہ باقی رہ گئی ہے۔ تو خدا میں بے شمار قدرتیں ہیں دعا کے ذریعے ان قدرتوں سے خدا کا بے قدرت بندہ بھی استفادہ کر سکتا ہے۔ اپنے آپ کو بے قدرت مانے اور تسلیم کریں اور خدا کی قدرتوں سے تعلق جوڑ نے کی کوشش کریں دعا کے ذریعے پھر دیکھیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ آپ کے کاموں میں ، آپ کے منصوبوں میں ، آپ کے اعمال میں برکت بھر دیتا ہے۔ تو یہ کام جو نماز اور ذکر الہی کا کام ہے یہ بھی دعا کے بغیر ہونا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے ہر ماں باپ کا فرض ہے ہر وہ باشعور انسان جس تک میری آواز پہنچتی ہے وہ اپنے اوپر یہ فرض کر لے کہ نماز کے معاملے میں اس نے خدا سے ضرور دعا مانگتی ہے اور خدا کی مدد حاصل کرتے ہوئے اپنے گرد و پیش نماز کے معیار کو بڑھانے کی کوشش کرنی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : اصل بات یہ ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کے حضور ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں سے محفوظ کر دے۔ انسان درد اور فرقت میں پڑا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب اسے حاصل ہو جس سے وہ اطمینان اور سکینت اسے ملے جو نجات کا نتیجہ ہے مگر یہ بات اپنی کسی چالا کی یا خوبی سے نہیں مل سکتی جب تک خدا نہ بلاوے یہ جا نہیں سکتا، جب تک وہ پاک نہ کرے یہ پاک نہیں ہو سکتا ۔ بہتیرے لوگ اس پر گواہ ہیں کہ بار ہا یہ جوش طبیعتوں میں پیدا ہوتا ہے کہ فلاں گناہ دور ہو جاوے۔ جس میں وہ مبتلا ہیں لیکن ہزار کوشش کریں دور نہیں ہوتا۔ باوجود یکہ نفس لوامہ ملامت کرتا ہے لیکن پھر بھی لغزش ہو جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گناہ سے پاک کرنا خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے اپنی طاقت سے کوئی نہیں ہو سکتا۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اس کے لئے سعی کرنا ضروری امر ہے۔ (یعنی ہاتھ توڑ کے نہ بیٹھ رہے کوشش اور جدو جہد کرتا رہے ) غرض وہ اندر جو گناہوں سے بھرا ہوا ہے اور جو خدا تعالیٰ کی معرفت اور قرب سے دور جا پڑا ہے اس کو پاک کرنے اور دور سے قریب کرنے کے لئے نماز ہے۔ اس ذریعہ سے ان بدیوں کو دور کیا جاتا ہے اور اس کی بجائے پاک جذبات بھر دئے جاتے