خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 454
خطبات طاہر جلدے 454 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۸ء ہیں۔یہی سر ہے جو کہا گیا ہے کہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے یا نماز فحشا اور منکر سے روکتی ہے۔پھر نماز کیا ہے؟ یہ ایک دعا ہے جس میں پورا درد اور سوزش ہو اسی لئے اس کا نام صلوۃ ہے کیونکہ سوزش اور فرقت اور درد سے طلب کیا جاتا ہے ( یعنی خدا سے جو کچھ بھی طلب کیا جاتا ہے وہ سوزش کے ساتھ ،جلن کے ساتھ طلب کیا جاتا ہے ) کہ اللہ تعالیٰ بدارا دوں اور برے جذبات کو اندر سے دور کرے اور پاک محبت اس کی جگہ اپنے فیض عام کے ماتحت پیدا کر دے۔( ملفوظات جلد ۵ صفحه: ۹۲-۹۳) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دعا وہ اکسیر ہے جو ایک مشت خاک کو کیمیا کر دیتی ہے اور وہ ایک پانی ہے جو اندرونی غلاظتوں کو دھو دیتا ہے۔اس دعا کے ساتھ روح پکھلتی ہے اور پانی کی طرح بہہ کر آستانہ حضرت احدیت پر گرتی ہے۔وہ خدا کے حضور میں کھڑی بھی ہوتی ہے اور رکوع بھی کرتی ہے اور سجدہ بھی کرتی ہے اور اسی کی ظل وہ نماز ہے۔“ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ دعا میں انسانی روح کا قیام، اس کا رکوع ، اس کا سجدہ کا، اس کا ظاہر نماز اس کا ظل ہے یعنی اس کا عکس جو ظاہر میں پیدا ہوتا ہے وہ نماز ہے۔اس میں سوچنے والی بات یہ ہے کہ بسا اوقات روشنی باہر سے آتی ہے اور اندرسایہ کرتی ہے لیکن وہ جو روشنی دل سے پیدا ہوتی ہے اس کا سایہ باہر گرتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ نقشہ پیش فرمایا ہے کہ اندر روح ہے جو قیام کر رہی ہے اور دعا کے لئے کھڑی ہو جاتی ہے۔اس کا ظل نماز کا قیام ہے۔پس اگر وہ اندر کی روح موجود نہ ہوتو وہ قیام بے معنی ہو جاتا ہے۔اگر وہ حقیقۂ سامیہ ہے کسی اندرونی روشنی کا پھر تو وہ حقیقت ہے ایک لیکن اگر اندرونی روشنی کوئی موجود نہیں تو ظاہری نماز بھی غائب ہو جائے گی نظر سے یعنی خدا کی نظر میں اس کی کوئی قیمت نہیں رہے گی ایک فرضی وجود بن جائے گی۔تو فرماتے ہیں کہ: وہ خدا کے حضور میں روح کھڑی ہے اور رکوع بھی کرتی ہے اور سجدہ