خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 402 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 402

خطبات طاہر جلدے 402 خطبه جمعه ۳/ جون ۱۹۸۸ء قادیان میں مرزا غلام احمد کے ماننے والے مسلمانوں کو اذان دینے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ہمارا بچپن قادیان میں گزرا و ہیں جوان ہوئے پارٹیشن تک، ایک ایک لفظ اس بات کا جھوٹا ہے۔کبھی آج تک ایسا واقعہ نہیں ہوا اور ایک اور جگہ یہ وضاحت کی گئی ہے کہ خود دوسرے مسلمانوں کی اپنی مساجد میں ان کو اذان سے روکا جاتا تھا۔اس لئے یہ مضمون ہے کہ جماعت احمد یہ قادیان اس بات کی دوسرے مسلمانوں کو اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ خود اپنی مساجد میں اذان دیں۔یہ تو ممکن ہے کہ اگر کوئی احراری شرارت کی راہ سے دوسری مسجد پر قبضہ کرنے کی خاطر وہاں بد نیتی اور فساد کی راہ سے اذان دینے کے لئے آیا ہو تو جماعت احمدیہ نے اپنی مسجد میں کسی مخالف کو جس کا اس مسجد سے تعلق نہیں اذان دینے سے روک دیا ہو۔اس سے میں انکار نہیں کرتا ایسا واقعہ ہوسکتا ہے کہ ہوا ہو میرے علم میں نہیں ہے لیکن یہ قطعی جھوٹ ہے اور واضح جھوٹ ہے اور افتراء ہے کہ جماعت احمدیہ نے کبھی کسی مسلمان کو اس مسجد میں اذان دینے سے روکا ہو جس کا اُس سے تعلق ہے یعنی اس فرقے کی مسجد ہے جہاں اُس کا آنا جانا ہے، اس کا آنا جانا کسی فریق کی طرف سے قابل اعتراض نہیں سمجھا جاتا۔کسی بھی ایسی مسجد سے جس کا جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں کبھی بھی جماعت احمدیہ نے کسی فریق کو اذان دینے سے روکا ہو تو ہم یہ سب بلند آواز سے اعلان کرتے ہیں لعنت اللہ علی الکاذبین۔اگر یہ شرعی عدالت کے بج سچے تھے یہ لکھنے میں تو مد مقابل آئیں اور بیویوں بچوں لڑکوں ،عورتوں ، اپنے ملنے جلنے والوں اور تعلق رکھنے والوں کو جو ان کو سچا سمجھتے ہیں ان سب کو ساتھ بلائیں اور اعلان کریں اور کھلے لفظوں میں شائع کریں کہ اگر ہم نے جھوٹے فیصلے کئے ہیں اور کذب سے کام لیا ہے تو خدا تعالیٰ ہم پر لعنت کی مار ڈالے اور دنیا کے لئے ہم عبرت کا نشان بنیں۔پھر لکھتے ہیں مرزا نے لوگوں کو افیون کھانے کی تلقین کی۔حد ہے بے حیائی کی یہ تو ممکن ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام طب سے بھی شغف تھا آپ کو اور کسی مریض کو کہا ہو کہ تمہارا علاج یہ ہے جس طرح بعض دفعہ ذیا بیطس کے مریض کے لئے افیون کا جز و تجویز کیا جاتا ہے نسخوں میں۔یہ کہنا کہ اپنے ماننے والوں کا افیون کھانے کی تلقین کی اور ساتھ یہ کہا کہ پہلا مسیح شرابی تھا اور دوسرا مسیح افیونی ہے۔یہ کسی عام بد بخت مولوی کی زبان نہیں ہے، یہ چوٹی کی شرعی عدالت پاکستان کے جوں کی زبان ہے۔آپ اندازہ کریں اس جرات اور بے باکی کی کہ اس طرح یہ لکھ رہے ہیں اور