خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 401 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 401

خطبات طاہر جلدے 401 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء خان، فخر عالم ، محمد صدیق چوہدری ، مولانا محمد غلام علی، عبدالقدوس قاسمی یہ سارے وہ ہیں جو اس عدالت کے جج کے طور پر بیٹھے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے دو یا تین وکلاء کی طرف سے جو اُن کی ذاتی حیثیت میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا اُس کا فیصلہ کرنے کے لئے یہ جج مقرر ہوئے تھے۔عوام الناس اُسے جماعت احمدیہ کا مقدمہ قرار دیتے ہیں یہ جھوٹ ہے۔میں نے کبھی بھی جماعت احمدیہ کی کسی تنظیم کو اجازت نہیں دی کہ وہ ان دنیاوی عدالتوں میں اپنا مقدمہ پیش کریں۔ہمارا مقدمہ بحیثیت جماعت خدا تعالیٰ کی عدالت میں ہے اور اب یہ مباہلہ کا چیلنج اگر کوئی غلط فہمی تھی بھی تو اسے ہمیشہ کے لئے دور کر دے گا۔ان کے عدالتی فیصلہ کے مقابل پر ہم خدا کی عدالت میں مقدمہ پیش کرتے ہیں اور ان کو فریق کے طور پر بلاتے ہیں۔اگر ان میں کوئی حیا ہے اگر ان میں کوئی جرات ہے اور وہ کامل یقین رکھتے ہیں کہ اُن کے فیصلے صداقت پر مبنی تھے اور حق پر مبنی تھے اور اسلام کی انصاف کی تعلیم کے مطابق تھے تو یہ بھی جرات کے ساتھ سامنے آئیں اور آسمان کی عدالت میں ہم سے یہ مقدمہ لڑ کے دیکھیں۔وہ لکھتے ہیں مرزا غلام احمد کی زندگی کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دھو کے باز اور بے ایمان آدمی ہے۔یہ شرعی عدالت کی زبان ہے۔جس طرح انہوں نے جماعت احمدیہ کا فیصلہ کرنے کی کوشش کی ہے ہر شریف النفس دنیا کا آدمی جو خود ملوث نہیں ہے اس جھگڑے میں وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ یہ سارے حج دھو کے باز اور بے ایمان ہیں۔ورنہ کوئی شریف النفس انسان جو حقیقت میں عدلیہ کے مضمون کو جانتا ہو وہ اس قسم کی باتیں اپنے فیصلوں میں نہیں لکھ سکتا۔پھر وہ فیصلہ دیتے ہیں کہ تمام الہامی پیشگوئیاں غلط پائی گئیں۔ایک بھی پیشگوئی حضرت اقدس مسیح موعود کی کبھی سچی نہیں ہوئی۔عام علماء جتنے بھی جماعت کے مدمقابل ہوئے ہیں ان سب سے یہ بے حیائی میں آگے بڑھ گئے ہیں۔اشد ترین مخالفین نے بھی یہ اقرار ضرور کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اکثر پیشگوئیاں سچی تھیں۔ان معنوں میں یہ اقرار کیا ہے کہ اُن کو جھوٹا کہنے کی ان کو کبھی جرات نہیں ہوئی اور گنتی کی دو یا تین پیشگوئیاں انہوں نے چنیں ہمیشہ انہیں اعتراض کا نشانہ بنایا لیکن اس عدلیہ کو دیکھیں کہ شریعت کے نام پر قائم ہوئی ہے۔ادعا یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کی نمائندگی کر رہی ہے اور اعلان یہ کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام پیشگوئیاں خواہ وہ الہامی تھیں یا غیر الہامی وہ ساری جھوٹی نکلیں۔پھر اسی عدلیہ نے یہ اعلان کرنے کی جرات کی کہ