خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 403
خطبات طاہر جلدے 403 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء دنیا کو دھوکا دے رہے ہیں۔پس وہی اعلان بار بار جماعت احمدیہ کی طرف سے کیا جارہا ہے اور یہ بھی اگر سچے ہیں تو آمین کہیں اور اعلان کریں دنیا میں کھلے کھلے لفظوں میں اور اخباروں میں شائع کریں اور ٹیلی ویژن پر آئیں اور یہ اقرار کریں کہ ہم بچے ہیں اس بات میں اگر خدا کی نظر میں ہم جھوٹے ہوں تو خدا ہم پر لعنت کی مارڈالے اور ہمارے تعلق رکھنے والوں پر بھی لعنت کی مار ڈالے جو اس اعلان میں ہمارے شریک ہیں۔پھر اور کئی قسم کی جو بے ہودہ سرائیاں کی گئیں ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ حضرت مسیح موعود نعوذ باللہ اپنے بیت الدعا کو بیت اللہ کے برابر مقام دیتے تھے اور حرم گردانتے تھے اور قادیان سالانہ آنے کو حج قرار دیا کرتے تھے اور حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید کو یہ تلقین کی کہ تم قادیان آکر حج کرو یعنی مناسک حج قادیان میں ادا کرو یہ ساری باتیں افتراء کا پلندا ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کیوں نہ حج کر لیا قادیان میں اگر دوسروں کو تلقین کرنی تھی۔ساری عمر اس دکھ میں مبتلا رہے کہ کاش مجھے اجازت ہو تو میں حضرت اقدس محمد مصطفی عدلیہ کے مزار کی بھی زیارت کر سکوں اور خانہ بیت اللہ کی بھی زیارت کروں ، حج کر سکوں لیکن دشمن نے آپ کی راہیں بند کر دی تھیں۔تو اگر حج اتنا ہی آسان تھا کہ قادیان میں بیٹھے ہو سکتا تھا یہ تو ہر روز حج ہوسکتا تھا وہاں۔اتنا جھوٹ ہے سراسر افتراء ہے کبھی بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یا جماعت احمدیہ کے کسی بڑے یا چھوٹے نے قادیان کی زیارت کو حج بیت اللہ کا متبادل نہیں سمجھا اور قادیان میں حج کرنے کا کوئی بھی تصور موجود نہیں۔اس لئے اگر یہی بات ہے بعض تحریروں سے جو مجازی رنگ میں کوئی اشارے انہوں نے دیکھے اُس سے یہ نتیجہ اگر نکالا ہے جو وہ نکال رہے ہیں تو ہم جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔جرات ہے تو تم بھی مقابل پر یہ اعلان کرو۔ایک بھی احمدی دنیا میں ایسا نہیں جو قادیان کبھی بھی اپنی زندگی میں حج کرنے کی نیت سے گیا ہو اور قادیان جانے کو اُس نے حج سمجھا ہو۔ایک بھی دنیا میں ایسا احمدی نہیں جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا آپ کے خلفاء کی تعلیم سے یہ نتیجہ نکالا ہو کہ میں جو قادیان جاؤں گا میر اوہ حج ہو جائے گا جو شریعت نے مجھ پر مکہ معظمہ کے طواف اور دوسرے دیگر مناسک کی صورت میں فرض فرما دیا ہے۔