خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 395
خطبات طاہر جلدے 395 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء لٹریچر شائع کیا جاتا ہے تو شائع کرنے والوں اور تقسیم کرنے والوں کو قید کر لیا جاتا ہے، اس لٹریچر کوضبط کر لیا جاتا ہے۔گزشتہ چند سالوں میں سینکڑوں احمدی رسائل اور اخبارات اور اشتہارات ضبط کئے گئے اور سینکڑوں احمدی نوجوانوں کو اس جرم کے ارتکاب میں قید کر لیا گیا کہ انہوں نے احمدیت پر الزام لگانے والوں اور بے باک زبان استعمال کرنے والوں کے جواب میں نہایت شائستہ زبان میں احمدیت کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔پس ہر وہ احمدی رسالہ یا اخبار یا اشتہار جس کے ذریعہ یہ کوشش کی گئی اس رسالے یا اخبار یا اشتہار کو بھی ضبط کر لیا گیا۔اُن لوگوں کو قید کر لیا گیا جنہوں نے وہ تقسیم کرنے کی کوشش کی۔اس لئے اس آیت کریمہ سے اگلی آیت میں جو قرآن کریم نے مضمون بیان فرمایا ہے اس کا پوری طرح اطلاق ہو رہا ہے کہ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ (الشورى : ۱۵) اب حجت کا معاملہ گزر چکا ہے اب دلیل کی راہ تم نے چھوڑی کوئی نہیں۔اول غالب دلیل کی وجہ سے تمہارے لئے مد مقابل دلیل پیش کرنے کی سکت ہی باقی نہیں تھی اور پھر تم نے اُس غالب دلیل کی راہ روکنے کے لئے تلوار اٹھالی ہے اور جبراً اُس دلیل کی آواز کو بند کرنے کی اور مثانے کی کوشش کی ہے اس کے بعد لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اب تمہارے اور ہمارے درمیان حجت کی کوئی بات باقی نہیں ب یہ حالت پہنچ جائے تو اس کے بعد مباہلہ کے سوا چارہ کوئی نہیں رہتا۔چونکہ اصل دعویٰ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوئی اور بذات خود میں یا آپ دعویدار نہیں ہیں مگر اس حیثیت میں کہ ہمیں بھی اُس دعویٰ کی تصدیق کے لئے اپنے جان و مال اور عزتوں کو پیش کرنے کے لئے بلایا جارہا ہے۔اس حیثیت سے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مباہلہ کی آواز کو آج پھر اٹھاتا ہوں۔وہ آواز جو سو سال پہلے اٹھائی گئی تھی جس سے ٹکرا کر سینکڑوں مولوی اور اُن کے ساتھی خدا تعالیٰ کی ذلتوں کی مار کھا کھا کر ہلاک ہوئے تھے اور پھر بھی بعض لوگوں نے اُس غلط روش کو ترک نہیں کیا۔اُسی آواز کو آج میں دوبارہ بلند کرتا ہوں اور اسے میں دو حصوں میں پیش کروں گا۔آج کے خطبہ کا تعلق جس سے ہے وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر جھوٹے الزامات کا تعلق ہے اور آپ کو مفتری اور مکذب قرار دینے سے تعلق ہے۔دوسرے حصہ میں یعنی انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں وہ امور پیش کروں گا جو اس کے بعد جماعت احمد یہ