خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 396 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 396

خطبات طاہر جلدے 396 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء پر مسلسل بہتان طرازی سے تعلق رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد جو نئی نئی افتراء پردازی کی راہیں اس قوم نے اختیار کی ہیں ان سے تعلق رکھتے ہیں۔اس لئے پہلا آج کا جو مباہلہ کا چیلنج ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب سے تعلق رکھتا ہے۔دوسرا بھی دراصل آپ ہی کی تکذیب سے تعلق رکھتا ہے لیکن جماعت احمدیہ کی وساطت سے جماعت احمد یہ پر نئے نئے جو الزام تراشے جارہے ہیں ان کے متعلق ایک چیلنج ہوگا۔تو اس مناسبت سے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں یہ چیلنج پیش کرتا ہوں :۔ہر ایک جو مجھے کذاب سمجھتا ہے اور ہر ایک جو مکار اور مفتری خیال کرتا ہے اور میرے دعویٰ مسیح موعود کے بارہ میں میرا مکذب ہے اور جو کچھ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی اس کو وہ میرا افترا خیال کرتا ہے۔وہ خواہ مسلمان کہلاتا ہو یا ہندو یا آریہ یا کسی اور مذہب کا پابند ہو اس کو بہر حال اختیار ہے کہ اپنے طور پر مجھے مقابل پر رکھ کر تحریری مباہلہ شائع کرے یعنی خدا تعالیٰ کے سامنے یہ اقرار چند اخباروں میں شائع کرے کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے یہ بصیرت کامل طور پر حاصل ہے کہ یہ شخص (اس جگہ تصریح سے میرا نام لکھے ) جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے در حقیقت کذاب ہے اور یہ الہام جن میں سے بعض اس نے اس کتاب میں لکھے ہیں یہ خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ سب اس کا افترا ہے اور میں اس کو درحقیقت اپنی کامل بصیرت اور کامل غور کے بعد اور یقین کامل کے ساتھ مفتری اور کذاب اور دجال سمجھتا ہوں۔پس اے خدائے قادر اگر تیرے نزدیک یہ شخص صادق ہے اور کذاب اور مفتری اور کافر اور بے دین نہیں ہے تو میرے پر اس تکذیب اور تو ہین کی وجہ سے کوئی عذاب شدید نازل کر ورنہ اس کو عذاب میں مبتلا کر۔آمین۔ہر ایک کے لئے کوئی تازہ نشان طلب کرنے کے لئے یہ دروازہ کھلا ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ: ۷۱-۷۲) پس یہ دروازہ جس طرح ایک سو سال پہلے کھلا تھا آج بھی کھلا ہے۔تکذیب کرنے والے تکذیب تو کر رہے ہیں لیکن باقاعدہ قرآنی چیلنج، قرآنی مباہلہ کی تعلیم کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملاعنہ نہیں