خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 394
خطبات طاہر جلدے 394 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء چوٹیوں پر فائز فرمایا گیا تھا جس کا قدم اخلاق پر نہیں بلکہ اخلاق کی چوٹیوں پر تھا۔تم عام دنیا سے ہی تہذیب سیکھ لو، عام دنیا ہی سے ادب کے تقاضے سیکھ لولیکن یہ باتیں بھی بے کار ثابت ہوئیں اور کسی نے ان نصیحتوں کی طرف توجہ نہ دی اور مسلسل یہ لوگ تکذیب اور شرارت میں اور ایذاء رسانی میں بڑھتے چلے گئے۔پس اس وقت یہ مناسب ہے کہ اس صدی کے اختتام سے پہلے اس قوم کو قرآن کی زبان میں مباہلہ کی طرف بلایا جائے۔حجت کی راہیں بند کر دی گئی ہیں۔دو طرح سے یہ راہیں بند ہوئی ہیں ایک تو یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم کلام اتنا قوی اور اتنا غالب ہے کہ اُس نے ان مخالفین کے دیرینوں کے منہ پھیر دیئے ہیں اور ان قوی دلائل سے تنگ آکر اور عاجز آ کر انہوں نے شرارت کی راہ اختیار کی ہے اور دھونس کی راہ اختیار کی ہے۔طاقتور اور قوی دلائل والا کبھی تلوار پر ہاتھ ڈالنے میں جلدی نہیں کیا کرتا وہ لوگ جو جبر کی طرف دوڑتے ہیں اس بات کا اقرار کر کے دوڑتے ہیں کہ اب ہمارے پاس کوئی دلیل باقی نہیں رہی۔دلیل کی رو سے ہم ان مخالفین کو اپنے مد مقابل کو شکست دینے میں ناکام رہے ہیں۔یہ اقرار تلوار کے ذریعہ اپنی بات منوانے کے اصرار کے اندر شامل ہوا کرتا ہے۔تو اس رنگ میں حجت کی راہ بند ہو چکی ہے۔دوسرے گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں یہ وتیرہ اختیار کیا ہے یعنی ارباب پاکستان نے یہ وتیرہ اختیار کیا ہے کہ احمدیت کے خلاف ہر قسم کی ہرزہ سرائی کو کھلی چھٹی ہے، ہر قسم کا گندہ اور فساد والا لٹریچر اور دروغ اور افتراء پرمبنی لٹریچر کھلے عام شائع کیا جارہا ہے، کثرت کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے ملک میں ہی نہیں بلکہ غیر ملکوں میں بھی حکومت کے خرچ پر یا حکومت کے ظاہری خرچ پر نہیں تو مخفی خرچ پر امداد کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے، مختلف زبانوں میں اس کے تراجم کئے جارہے ہیں اور بے باکی اور بے حیائی کی حد یہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی تصویر ایک پھنیر سانپ کے طور پر بنائی جاتی ہے اور دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ یہ پھنیر سانپ ہے جو تمہیں بھی ڈسنے کے لئے آرہا ہے اور تمہیں اس سے متنبہ کیا جارہا ہے۔تو خدا کے عذاب کو بلانے کے جتنے طریق بھی ممکن ہیں، بے حیائی اور بے باکی کی جتنی راہیں ممکن ہیں ان سب کو اختیار کیا جا رہا ہے۔اس لئے اب سمجھانے کا وقت گزر چکا ہے دوسرا یہ کہ احمدیت کی طرف سے جب جوابی