خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 392 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 392

خطبات طاہر جلدے 392 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء اور حال ہی میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں اُن سے پتا چلتا ہے کہ دوبارہ آمریت کا لباس اگر کھلم کھلا نہیں پہنیں گے تو عملاً پہن کر اس حیثیت سے اپنے عرصہ حیات کو لمبا کرنے کی کوشش کریں گے۔وہ اس وقت حضرت مسیح موعود کی تکذیب کے سب سے بڑے علمبر دار ہیں اور ان کے ساتھ بعض علماء نے جو حاشیہ بردار ہیں انہوں نے بھی بدزبانی اور بد کلامی کی حد کر دی ہے۔اسمبلیاں بھی بے پاک ہو چکی ہیں وہ سیاسی ایوان جنکا مذاہب کے معاملات سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہوا کرتا، جن میں خدا کی طرف سے ہو نیوالے دعویداروں کی تکذیب اس لئے نہیں کی جاتی کہ اُن کا اس مضمون سے تعلق نہیں ہے۔ان اسمبلیوں میں بھی یہ فیشن بن گیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نہ صرف تکذیب کریں بلکہ آپ پر پھبتیاں کسیں تضحیک سے کام لیں اور ہر پہلو سے آپ کی تخفیف کر کے گویا اپنی نظر میں آپ کو دنیا میں ذلیل کر دیں۔اس سلسلہ میں پہلی بات تو سمجھانے کی ہے جو میں پہلے بھی سمجھا چکا ہوں۔میں نے کئی طریق سے اس قوم کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اپنی حیثیت اور اپنے مقام کو سمجھو بے وجہ ایسے معاملات میں دخل نہ دو جن کے نتیجہ میں تم خود اپنی ہلاکت کو دعوت دینے والے ثابت ہو گے اور ادب کی زبان اختیار کرو۔اگر تمہیں ایک دعویدار کے دعوی کی سچائی پر ایمان نہیں ہے تو خاموشی اختیار کرو اور یا انکار کرنا ہے تو انکار میں بھی ادب کا پہلو ہاتھ سے نہ جانے دو اور قرآن کریم نے جو رہنما اصول اس سلسلہ میں بیان فرمایا ہے اس کو نہ بھلاؤ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے وَاِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَاِنْ يَّكُ صَادِقَا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمْ (المؤمن : ۲۹) تو دیکھو تم تکذیب میں زبانیں لمبی نہ کرو وَ إِنْ يَكُ كَاذِبًا اگر یہ جھوٹا ہے یعنی موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ایک مخفی ایمان رکھنے والے نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ اگر موسیٰ جھوٹا ہے فَعَلَيْهِ كَذِبہ اس کا جھوٹ اور اس جھوٹ کا فساد خود اس پر پڑے گا۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص خدا پر جھوٹ بول رہا ہو اور خداس کے جھوٹ کا عذاب قوم پر ڈال دے اس لئے تمہیں مطمئن رہنا چاہئے کہ اس کے جھوٹ سے خدا تمہیں نہیں پوچھے گا۔اس نے جھوٹ بولا ہے تو خدا کو علم ہے جس پر جھوٹ بولا جا رہا ہے تمہیں قطعی علم کا کوئی ذریعہ حاصل نہیں ہے کیونکہ تم خدا اور اُس کے بندوں کے درمیان آتے نہیں تمہارا مقام نہیں ہے کہ اُس آواز کوسن سکو جو خدا کسی بندے کو