خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 393
خطبات طاہر جلدے 393 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء مخاطب کرتے ہوئے اُس کے کانوں میں روح القدس کے ساتھ پھونکتا ہے۔اس لئے تم ایک طرف بیٹھے رہو۔زیادہ سے زیادہ تمہارا یہ کام ہے کہ کہو یقین نہیں آتا لیکن تکذیب کا اور شرارت کا تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا۔فرمایا پس اُس نصیحت کرنے والے نے یہ نصیحت کی کہ اگر یہ جھوٹا ہے تو تمہیں اس سے کیا۔خدا جانے اور یہ جھوٹا جانے اللہ تعالیٰ خود اس کو ہلاک کر دے گا اور تم پر اس کے جھوٹ کا وبال نہیں پڑے گا۔لیکن وَاِنْ يَكُ صَادِقًا اگر یہ سچا نکلا يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ پھر تم پر ضرور وہ دو بال نازل ہوں گے اور وہ آفات نازل ہوں گی جن کا یہ وعدہ کر رہا ہے۔اس لئے خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور احتیاط سے کام لو اور بے وجہ ایک دعویٰ کرنے والے کی تکذیب میں جلدی نہ کرو۔یہ بھی میں نے سمجھانے کی کوشش کی اور مختلف رنگ میں جس حد تک بھی خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق بخشی گزشتہ چند سال مسلسل اس قوم کو اور تکذیب کے راہنماؤں اور ائمہ کو نیک نصیحت کے ذریعہ قرآن کریم کی زبان میں سمجھانے کی کوشش کرتا رہا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساری آواز میں بہرے کانوں پر پڑتی رہی ہیں۔یہ لوگ کسی طرح بھی تکذیب سے باز نہیں آئے بلکہ ان میں سے بعض تکذیب اور بے حیائی میں حد سے زیادہ بڑھتے چلے گئے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں مذاق اور تضحیک اور تمسخر کے رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام لے کر چوٹیں لگائی گئیں۔ان کو اتنا بھی خیال نہیں آیا کہ دنیا کے اکثر ممالک ایسے ہیں جن کی بھاری اکثریت حضرت اقدس محمدمصطفی ﷺ کو سچ نہیں سمجھتی ان کی بھی اسمبلیاں ہیں ، ان کے بھی ایوان ہیں بڑے بڑے اور بعض اس میں سے اتنے طاقتور ملک ہیں کہ دس یا ہیں پاکستان بھی ان کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتے لیکن وہ شرافت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اسمبلیاں اس غرض سے قائم نہیں کی جاتیں اور باوجو قطعی طور پر ایک خدا کی طرف سے ہونے والے دعویدار کو اپنی دانست میں جھوٹا سمجھنے کے باوجود پھر بھی وہ کوئی لفظ تکذیب کا، تخفیف کا اپنی اسمبلیوں میں حضرت اقدس محمد مصطفی کے برخلاف استعمال نہیں کرتے۔ان میں دہر یہ بھی ہیں ان میں مشرکین بھی ہیں ان میں بعض یہود بھی ہیں ، نصاری بھی ہیں، ہر قسم کے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہیں لیکن کبھی آپ ان کی اسمبلیوں سے بانی اسلام کے متعلق اس بدتمیزی کی آواز کو نہیں سنیں گے۔پھر آپ مسلمان کہلاتے ہوئے ، اعلیٰ تہذیب کا دعویٰ رکھتے ہوئے اُس شخص نے کی غلامی کا دعویٰ کرتے ہوئے جو اخلاق کی