خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 391
خطبات طاہر جلدے 391 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء اگر میں جھوٹا ہوں تو تم پر لعنت پڑے۔اس آواز کے جواب میں مومنین کی جماعت جس طرح لبیک کہتی ہے یہ وہ نقشہ ہے جو قرآن کریم آنحضرت ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کے متعلق پیش فرمارہا ہے اور پھر دوسروں کو چیلنج ہے کہ اگر تم بھی ایسے ہی معزز سمجھے جاتے ہو اگر تمہاری باتوں کا بھی ایسا ہی اعتماد ہے تو تم بھی اپنے ماننے والوں کو اپنی غلامی کا ادعا کرنے والوں کو اسی طرح ہی پکارو اور ان کو کہو کہ تم بھی اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دو اور یہ اعلان کرو کہ یہ دعوایدار جھوٹا ہے اور ہم کامل یقین رکھتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے۔یہ ہے مباہلہ کی جان، مباہلہ کی روح جس کو قرآن کریم نے اس مختصر مگر بہت ہی گہری اور عمیق اور تفصیلی مضمون پر روشنی ڈالنی والی آیت میں بیان فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی کو سو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جب میں نے سو سال کا لفظ بولا یعنی صدی اختتام کو پہنچنے والی ہے تو یہ مراد نہیں تھی کہ آپ کے دعوئی الہام اور دعوی ماموریت کو اتنا عرصہ گزرا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب جماعت کی داغ بیل ڈالی اُس وقت سے لیکر آئندہ سال 23 مارچ تک ایک سوسال پورے ہوں گے لیکن جہاں تک دعویٰ الہام کا تعلق ہے، دعوی ماموریت کا تعلق ہے وہ اس سے بہت پہلے سے تھا۔پہلا ماموریت کا الہام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو 1882ء میں ہوا اور اُس سے پہلے بھی سلسلہ الہامات کا ذکر براہین احمدیہ میں ملتا ہے جو بہت دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔پس حقیقت یہ ہے کہ ایک سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلسل خدا تعالیٰ سے الہام پانے کا اور بچے کشوف دیکھنے کا ادعا فرمایا اور سچی رویا دیکھنے کا دعویٰ کیا اور ان امور کو کھول کھول کر گرد و پیش میں پیش کیا اور پھر یہ دائرہ ، خطاب کا دائرہ یعنی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ آپ نے ہندوستان والوں کو، پھر تمام دنیا والوں کو ایک مذہب والوں کو پھر دوسرے مذہب والوں کو یہاں تک کہ تمام دنیا کے مذاہب کو مخاطب کر کے اپنے ان دعاوی کو بڑی تحدی کے ساتھ پیش فرمایا۔اس لئے آج کل کے اس دور میں جبکہ بدقسمتی سے پاکستان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کا اس دور میں جھنڈا اٹھا لیا ہے اور پاکستان کے بدنصیب سر براہ نے جو پہلے ڈکٹیٹر کے طور یہ ظاہر ہوئے پھر اس کے بعد صدر کا چولہ پہنا پھر واپس آمریت کی طرف رُخ اختیار کیا