خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 390
خطبات طاہر جلدے 390 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء کو لعنت کا اختیار دیا جاتا ہے اور بالآخر یہ لعنت بعض دفعہ دوطرفہ صورت اختیار کر جاتی ہے اس لئے اُسے ملاعنہ کہا جاتا ہے تو بہر حال یہ مضمون لعان کے مضمون سے مختلف ہے۔مباہلہ میں ایک طرف سے خدا کی طرف سے ہونے کے دعویدار کا ہونا ضروری ہے اور دوسری طرف اُس دعویدار کی تکذیب کرنے والوں کا ہونا ضروری ہے۔قرآن کریم میں مباہلہ کا یہی مفہوم ہے اس کے سوا اور کوئی مفہوم نہیں ہے۔اس لئے اگر احمدیت کے بعض مخالفین جو ہلکے ہونے کی وجہ سے اچھلتے ہیں اور بعض دفعہ ایسی باتوں میں مباہلہ کا چیلنج دیتے رہتے ہیں جن میں قرآن کریم نے مباہلہ کا کوئی ذکر ہی نہیں فرمایا اور امت محمدیہ میں اُن امور میں مباہلہ کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔تو ایسے چھوٹے اور ہلکے معاندین کے جواب میں جماعت احمدیہ کے خلفاء کا یہی طریق رہا ہے وہ خاموشی اختیار کرتے ہیں اور انہیں کوئی جواب نہیں دیتے۔اس لئے میں یہ بات کھول رہا ہوں کہ بعض دفعہ بعض اسی قسم کے علماء کہلانے والے یہ تماشا بناتے ہیں، یہ ڈرامہ کھیلتے ہیں اور عوام الناس پر گویا یہ اثر ڈالتے ہیں کہ گویا جماعت احمدیہ کے خلفاء کو ہم نے بار بار چیلنج دیئے اور یہ بھاگ گئے۔اول تو ان کی حیثیت کا معاملہ بھی زیر نظر آنا چاہئے کہ اُن کی حیثیت کیا ہے؟ کس قوم کی نمائندگی کرتے ہیں۔چنانچہ آیت مباہلہ بتارہی ہے کہ جو بلانے والا ہو وہ ساری قوم کو بلانے کا مجاز ہو۔اُس کی ایسی حیثیت ہو کہ اُس کی آواز پر قوم کے مرد اور عورتیں اور بچے اور سارے نفوس لبیک کہتے ہوئے اُس کے گرد اکٹھے ہو جائیں۔ہر کس و ناقص کا کام نہیں ہے کہ وہ مباہلہ شروع کر دے یا قرآن کے نزدیک ہر کس و ناقص اگر مباہلہ کی آواز دے تو بچوں کا فرض نہیں ہے کہ ہر مباہلہ کا اس طرح جواب دے۔قرآن کریم نے جو مباہلہ کا نقشہ کھینچا ہے اس نقشہ کی رو سے جب بھی حالات ملتے جلتے دکھائی دیں اس وقت مباہلہ ضروری ہو جاتا ہے یا مباہلہ کا اختیار ہو جاتا ہے ضروری نہیں کیا جاسکتا۔تو دونوں طرف را ہنما ہونے چاہئیں۔معزز را ہنما ہونے چاہئیں جن کے پیچھے پوری قوم ہو اور معاملہ کسی خدا کی طرف سے ظاہر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کی سچائی کا معاملہ ہو اور ایک قوم اُسے جھٹلا رہی ہو اور دوسری اُس کو ماننے والی اُس کی تائید میں دل و جان کے نذرانے پیش کرنے کے لئے حاضر ہورہی ہو اور اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے لئے تیار ہو۔اتنا کامل یقین رکھتی ہو کہ جب اسے بلایا جائے کہ آؤ قوم کے مردو عور تو اور بچو، آؤ اور میری صداقت کا اقرار کرو اور اپنی زندگی کی ہر قیمتی چیز داؤ پے لگا دو اور یہ خدا سے دعا کرو کہ