خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 389
خطبات طاہر جلدے 389 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء سے بات علم کی حد میں اتر آئے۔چنانچہ ان کی ظنی باتوں کے مقابلے پر خدا تعالیٰ نے تجھے علم عطا فرما دیا اس کے بعد ان کے لئے حجت کی گنجائش کوئی باقی نہ رہی۔پھر کیا طریق باقی رہ جاتا ہے جس سے معاملہ طے ہو۔فرمایا فَقُلْ تَعَالَوْانَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ تو ان سے کہہ دے کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تمہارے بیٹوں کو بلاتے ہیں یعنی ہم مل کر اپنی اپنی اولا د کو آواز دیتے ہیں کہ آجاؤ۔ابناء کا لفظ اگر چہ بیٹوں کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جب عمومی طور پر استعمال کیا جائے تو اس سے مرادسب اولاد ہے۔تو فرمایا أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاء كُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَ كُمْ اور تم اپنی عورتوں کو بلاؤ اور ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں وَ اَنْفُسَنَا وَ أَنْفُسَكُمْ اور ہم اپنے سے تعلق رکھنے والے تمام نفوس کو آواز دیتے ہیں اور تم بھی اپنے سے تعلق رکھنے والے تمام نفوس کو آواز دو ثُمَّ نَبْتَهِلْ پھر ہم مباہلہ کرتے ہیں فَنَجْعَل نَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ اور خدا کی لعنت اس شخص پر ڈالتے ہیں جو بالا رادہ واضح طور پر جھوٹ سے کام لے رہا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کی تفسیر میں اس پہلو پر زور دیا کہ یہاں مباہلہ محض غلط بات پر ایمان رکھنے والوں سے نہیں کیا جار ہا بلکہ ایسے غلط ایمان رکھنے والوں سے کیا جارہا ہے جو جھوٹے ہیں جو جانتے ہیں کہ ان کے ایمان کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہے جو واضح طور پر آنکھیں کھول کر خدا پر افترا کرنے والے ہیں۔پس ایسا مکذب جو بے حیا ہو چکا ہو، ایسا مکذب جس پر بسا اوقات یہ بات واضح ہو چکی ہو کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور بالا رادہ تکذیب سے باز نہ آئے اُس مکذب کو دعوت مباہلہ ہے اور اس مباہلہ میں دو فریق ہوتے ہیں۔ایسی لعنت کو مباہلہ نہیں کہا جاتا جسے قرآن کریم کی اصطلاح میں ، اسلامی اصطلاح میں لعان کہتے ہیں۔لعان میں بھی دونوں پہلو آ جاتے ہیں لیکن مباہلہ اور لعان میں ایک فرق میں بتانا چاہتا ہوں۔لعان اُس ملاعنہ کو یعنی ایک دوسرے پر لعنت ڈالنے کو کہا جاتا ہے اسلامی اصطلاح میں جس میں خاوند بیوی پر الزام لگائے یا بیوی خاوند پر الزام لگائے اور گواہ موجود نہ ہوں اور اس کے نتیجہ میں کوئی اور صورت نہ رہے تو وہ بھی مباہلہ سے ملتی جلتی چیز تو ہے لیکن ایک خاص مضمون سے تعلق رکھنے والی ہے۔تکذیب میں ایک دعویدار کے خدا سے ہونے کی تکذیب کی جاتی ہے اور لعان میں ایک شخص کو بد کا رسمجھتے ہوئے اُس کی بدکاری کا ادعا کیا جاتا ہے اور اُس کے جواب میں پھر دوسرے فریق