خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 384 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 384

خطبات طاہر جلدے 384 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء نہیں لیکن جو سب سے زیادہ سینے سے لگایا جانے والا گروہ ہے جس کو اس حکومت نے گلے سے لگا یا وہ دیو بندی علماء کا گروہ ہے جسے مفتی محمود گروپ یا مولانافضل الرحمان گروپ بھی کہا جاتا ہے۔شروع سے ہی حکومت کے ساتھ ان کے روابط بڑے گہرے تھے۔خصوصاً احمدی مسئلہ میں اور نفاذ اسلام کی کوششوں میں اور یہی وہ علماء تھے جنہوں نے یہاں تک اعلان کیا تھا کہ ضیاء الحق صاحب نے ایسے عظیم الشان کارنامے انجام دیئے ہیں کہ اب ہمیشہ ہمیش کے لیے یہ امیر المومنین کے طور پر جانے جائیں گے اور ساری قوم ہمیشہ ان کی مرہون منت رہے گی اور تاریخ میں ان کا نام روشن رہے گا۔مولانا فضل الرحمان صاحب یہ اعلان فرماتے ہیں کہ موجودہ حکومت جو کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا دعوی کر رہی ہے۔اُس نے نہ صرف اسلام کو زبردست نقصان پہنچایا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اُس نے اسلام کو شہید کر دیا ہے تو غلط نہ ہو گا۔احمدیوں کو قتل کرنے والے جب ہاتھ کھل گئے تو اسلام کو شہید کرنے سے بھی باز نہیں آئے۔اب سوال یہ ہے یہ جو سب دوسرے باتیں کہہ رہے ہیں ، صدر ضیاء الحق صاحب ان باتوں کو تسلیم بھی کرتے ہیں کہ نہیں ، ہو سکتا ہے یہ ساری باتیں لوگ کہہ رہے ہوں اور ابھی بھی یہی سمجھتے ہوں بیچارے کہ نہیں میں اسلام کی خدمت کر رہا ہوں اور بڑی کامیابی سے کر رہا ہوں۔تو اُن کے الفاظ میں سنیئے جو جماعت احمدیہ کو کل تک کینسر کہ رہے تھے ، سرطان کہہ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اس سرطان کو جڑوں سے اکھیڑ پھینکنا اور ہمیشہ کے لیے ملیا میٹ کر دینا ہمارا فرض منصبی بن چکا ہے۔وہ ۲۸ اگست ۱۹۸۷ کو کراچی میں بیان دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔شہر میں ایسی فضاء ہے جس کا کوئی بھی تصور نہیں کر سکتا۔کیا ہم اس افسوسناک سانحہ کے بعد اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے قابل ہیں۔ہمارے معاشرے میں خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں۔جب تک ہم اس سرطان کو جڑ سے اکھاڑ نہیں پھینکیں گے صورتحال بہتر نہیں ہو گی۔یعنی سارا پاکستان کا معاشرہ سرطان بن گیا ہے اور سارے معاشرے کو اُکھاڑ کر پھینک دیں گے اور بنا کس طرح ہے وہ اُن کوششوں کے نتیجے میں جس کو مسلسل یہ گزشتہ چند سال سے کر رہے تھے، جن کی پیروی یہ چند سال سے کر رہے تھے۔اب سنیئے آگے فرماتے ہیں۔آخری نتیجہ ان کی اسلام کے نام پر قوم کو اکٹھا کرنا جس نتیجے تک جا کے پہنچا ہے وہ ان کے الفاظ میں یہ ہے کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن تعصب ہے۔ملک کے مشرق اور مغرب میں مسلمان ہمسلمان کا