خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 383 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 383

خطبات طاہر جلدے 383 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء ہے ایک ہزار افراد قتل ہوئے ہیں۔عزت لوٹنے ، ڈاکہ زنی، راہ زنی، اغوا اور ڈکیتی کی وارداتوں میں کئی سو گنا اضافہ ہو گیا ہے یعنی جس وقت نفاذ اسلام کے دعوی کیے گئے تھے اُس کے بعد سے تادم تحریران سب باتوں میں کئی سو گنا کا اضافہ ہوا ہے۔یہ سب تازہ باتیں میں بتا رہا ہوں آپ کو تا کہ آپ کو اندازہ ہو کہ یہ ساری کوششوں کے بعد جو ماحاصل ہے وہ یہ ہے۔اتنی محنتیں کی گئیں ، اتنے اقدامات کئے گئے ، اتنے بلند بانگ دعوے کیے گئے ، اسلام کے نام پر اتنے مظالم کیے گئے۔ان سب کے نتیجے میں جو خدا کی طرف سے برکتیں نازل ہوئی ہیں یہ اُن کا خلاصہ ہے۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ایک ممبر اسمبلی کے کمرے میں شراب کے نشے میں دھت ہیں افراد نگی لڑکیوں کے ساتھ رقص کرتے رہے۔کراچی میں ظلم کی قیامت ٹوٹ رہی تھی ، رمضان شریف میں اور اسمبلیوں کے ممبران کا یہ حال تھا۔آج تک تاریخ پاگل ہوئی ، ہوئی ہے۔وہ نیرو پر یہ فقرے چست کر رہی ہے کہ روم جل رہا تھا اور نیر و بنسیاں بجارہا تھا۔نیرو کا جرم بنسی بجانے کا کہاں وہ جرم اور کہاں یہ کیفیت کہ کراچی میں آگ لگ گئی ہے ، مسلمان مسلمان کی جان لے رہا ہے اور اُس کو زندہ جلانے کی کوشش کر رہا ہے ، اُس کے گھر لوٹ رہا ہے ، اُس کی عزتیں لوٹ رہا ہے اور یہاں پاکستان اسمبلی کے ممبر اپنے ہوٹل میں بیٹھ کر رمضان شریف میں یہ حرکتیں کر رہا ہے۔رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فتح علی خان کا بیان ہے یہ جو ملت لندن ۲۱ را پریل ۱۹۸۸ میں شائع ہوا۔مولانا نورانی صاحب اب یہ فرماتے ہیں کہ صدر ضیاء باقی جگہ تو اسلام نافذ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے یہ تو صاف نظر آرہا ہے آپ کو۔ایک ہی جگہ ہوسکتی ہے جہاں شاید وہ اسلام نافذ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہوں ، اُن کا اپنا وجود ہے، اپنا بدن ہے۔تو فرماتے ہیں کہ صدر ضیاء الحق نے اسلام کا نام تو لیا لیکن اسلام کو اپنے جسم پر بھی نافذ نہیں کیا۔صدر ضیاء الحق کے ذریعے اسلام آباد CIA کا سب سے بڑا ہیڈ کوارٹر بن چکا ہے۔مولانا نورانی روز نامہ حیدر راولپنڈی ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء۔ان کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ علماء کے اُس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کو حکومت نے کبھی بھی سینے سے نہیں لگایا یعنی نورانی گروپ اور ان کے منہ سے ایسی بات سننا تو کوئی ایسے تعجب کی بات نہیں دشمن کے منہ سے ایسی بات انسان سن ہی لیتا ہے۔یعنی اس میں کوئی زیادہ قابل اعتماد بات