خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 385 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 385

خطبات طاہر جلدے 385 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء خون کر رہا ہے (جنگ ۸ فروری ۱۹۸۸ء)۔پھر آخر پر ایک اقرار ہے جو سننے سے تعلق رکھتا ہے۔جماعت احمدیہ کے متعلق آپ کو یاد ہوگا کہ انہوں نے اعلان کیا اور حکومت پاکستان نے با قاعدہ رسالے جاری کیے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کھلے لفظوں میں کہ احمدی نہ مسلمان ہیں نہ پاکستانی۔یہ پاکستان کے بھی دشمن ہیں اور اسلام کے بھی دشمن۔اب صدر ضیاء الحق صاحب ۸ فروری ۱۹۸۸ کو اس مضمون پر کیا کہتے ہیں۔فرماتے ہیں افسوس ہے کہ چودہ سوسال بعد ہم مسلمان ہیں نہ پاکستانی اور نہ انسان رہے ہیں۔یہ تو بڑا ظلم ہے چودہ سو سال سے کیوں بات شروع کرتے ہیں ۱۹۸۴ سے بات شروع کرنی چاہیے تھی۔جب انہوں نے کوششیں کی تھیں یہ اُن کا نتیجہ ہے محمد رسول اللہ ہی کی کوششوں کا نتیجہ نہیں ہے۔بڑے ظلم کی بات ہے کہ اس مضمون کو وہاں سے شروع کیا جا رہا ہے۔یہ کہنا چاہیے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے تو انسان کو انسان بنایا اور پھر انسان کو مسلمان بنایا ہے اور مسلمان کو خدا نمامسلمان بنا دیا اور قوم اور وطن کا وفادار بنا دیا، انسانیت کی قدروں کا وفادار بنا دیا ، مذہبی قدروں کا وفادار بنا دیا اس میں کوئی شک نہیں یہ بات درست ہے۔جو تحریک حضرت اقدس صلى الله محمد مصطفی امیہ نے شروع فرمائی تھی۔اُس کے متعلق جائزہ لینا ہو تو تاریخی پس منظر میں جائزہ لیں کہ اُس تحریک کا کیا نتیجہ ظاہر ہوا کیسی کیسی برکتیں ظاہر ہوئیں۔ان کو اپنے زمانے کی بات کرنی چاہیے کہ ۱۹۸۴ء میں میں نے قوم کے سامنے اس عزم کا اظہار کیا تھا، یہ وعدے کیے تھے، یہ بلند بانگ دعاوی کیسے تھے کہ میں ساری قوم کو دوبارہ مسلمان بناؤں گا اور اسلامی معاشرے کو نافذ کروں گا اور پاکستان کی قدروں کو دوبارہ زندہ کروں گا پاکستان کی وفاداری کے جذبات کو دوبارہ زندہ کروں گا۔ایک عظیم پاکستانی قوم میری کوششوں کے نتیجے میں منصہ شہود پر اُبھرے گی۔یہ دعوے کیے تھے۔مگر میں اب یہ اقرار کرتا ہوں ان ساری کوششوں کے بعد آج مجھے یہ تسلیم کرنا پڑ رہا ہے کہ ان گزشتہ چار پانچ سال کی کوششوں کے بعد آج ہم مسلمان ہیں نہ پاکستانی ہیں ، نہ انسان رہے ہیں۔جب انہوں نے پاکستانی قوم کی چھاتی پر قدم رکھا تھا اور ہر ڈکٹیٹر قوم کی چھاتی پر قدم رکھ کر عروج کو حاصل کیا کرتا ہے۔اُس وقت تو یقیناً وہ لوگ مسلمان تھے چند سال پہلے جولوگ پاکستان گئے ہیں وہ گواہی دیتے ہیں کہ ملک کا حال اور تھا اُس وقت۔اُس وقت انسانی قدریں ابھی زندہ تھیں اور یہ سفا کا نہ حالت نظر نہیں آتی تھی جو اس وقت قوم کی حالت ہے۔اس لیے انہوں نے جس قوم کو پکڑ اوہ