خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 369
خطبات طاہر جلدے 369 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء جب اپنے آپ کو Commit کر رہا ہے ساری دنیا کے سامنے اور مغربی دنیا کے سامنے بھی جو انسانی آزادی کے متعلق بہت ہی بلند تصورات رکھتی ہے خواہ اپنا عمل ایسا ہو یا نہ ہو۔اور اس قسم کے اعلان جرأت کے ساتھ ایسی دنیا میں عام ہوش مند انسان نہیں کر سکتا۔تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی ایسا قطعی فیصلہ تھا جس کے سارے پہلوؤں پر غور کر لیا گیا تھا اور اُس کے بعد ان تمام خطرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ دنیا میں کیسی بدنامی ہوگی ہماری کیا کہیں گے کہ کس قسم کے مسلمان ملک ہیں ، کس قسم کے سر براہ ہیں ان سب باتوں کا توازن کرنے کے بعد پورے ناپ تول کے بعد یہ اعلان کیا گیا ہے کیونکہ صدران مملکت کے اس قسم کے اعلان جو رسمی طور پر ، با قاعدہ ایمبیسی کی طرف سے پیش کیے جائیں وہ یونہی اتفاقی جذبات کے نتیجے میں نکلی ہوئی باتیں نہیں ہوا کرتیں۔تو اس لیے میں اسکی وضاحت کر رہا ہوں کہ یہ بڑی اہمیت رکھنے والا اعلان تھا اور پاکستان میں جو کچھ سلسلے رونما ہوئے ان اعلانات کے بعد اور جو اقدامات کیے گئے حکومت کی طرف سے وہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔کیا کچھ ہونا تھا اس کے بعد اس سلسلے میں جمعہ خان کے قلم سے جو دلچسپ ادارئیے شائع ہوتے رہے ہیں یا مقالات شائع ہوتے رہے ہیں۔اُن کی ایک عبارت میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ احمدیت کے اوپر ہونے والے واقعات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے بلکہ احمدیت ہی نہیں ساری قوم کے ساتھ جو کچھ ہو جانا تھا اُس کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔وہ لکھتے ہیں ” بہت سی قومیں مکمل آزادی حاصل کرنے کے لیے ان فرعونوں سے لڑ رہی ہیں جو زمین پر خدا بنے بیٹھے ہیں۔اُن میں سے کسی نے مجھے اور دستار کو اپنی علامت بنا کر خود کو واعظ مشہور کر رکھا ہے۔کوئی فوجی وردی میں ہے اور اسلحہ کی طاقت پر اتراتا ہے، کسی نے شرافت کو اپنا لباس بنایا ہے، جمہوریت کا نعرہ لگایا ہے اور وہ خود کو نجات دہندہ بتاتا ہے۔ان شیطانوں نے خود کو مادر پدر آزاد کر رکھا ہے اور دوسروں سے کہتے ہیں کہ اطاعت کرو۔یعنی خود کو مادر پدر آزاد کر رکھا ہے۔آپ کسی ضابطے کسی اصول کے پابند نہیں ہیں اور دوسروں کو کہتے ہیں کہ ہماری اطاعت کرو۔وہ اپنی اطاعت چاہتے ہیں اور اُن کا بس نہیں چلتا ورنہ وہ لوگوں کو یہ حکم ہی دے دیتے کہ انہیں سجدہ کیا جائے۔ویسے عملاً انہوں نے لوگوں کو سجدہ کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔یہ حصہ احمدیت سے تعلق رکھنے والا حصہ نہیں ہے کامل یقین اور پورے اعتماد سے میں کہ سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کسی احمدی نے کسی فرضی