خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 368

خطبات طاہر جلدے 368 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء ترقی کرتا ہے۔چنانچہ اس بیان کے بعد ایک اور بیان جاری کیا جس میں انہوں نے فرمایا یعنی دو سال کے بعد فوراًبعد نہیں۔پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت کا نمونہ بنایا جائے گا۔یعنی آرڈینینس کے جاری ہونے کے دو سال بعد تک یہ ارادے اتنے بلند تھے اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ایسی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں اور کامیابی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں جہاں دعاوی کو مزید زیادہ بلند و بانگ بنایا جا سکتا ہے۔چنانچہ پہلے تو محض عمومی طور پر اسلام کے نفاد کا وعدہ تھا اب فرمایا کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت کا نمونہ بنایا جائے گا۔اس کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے اور انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت کا نمونہ بنانے کی توفیق اور حوصلہ عطا کرے۔یہ پہلا بیان جو تھا وہ ایونگ سپیشل ۵ مئی ۱۹۸۴ء سے لیا گیا ہے اور دوسرا بیان امن کراچی ۲ جون ۱۹۸۶ء میں شائع ہونے والی ایک خبر سے اخذ کیا گیا ہے۔پھر اپنے فیصلے کو ساری دنیا پر واضح کرنے کے لیے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف اتنے سنگین اقدامات کیوں اختیار کیے جارہے ہیں۔لندن میں ہونے والی عالمی ختم نبوت کانفرنس کے نام صدر ضیاء نے ایک پیغام بھجوایا اور یہ ہدایت کی کہ پاکستان کی ایمبیسی کی طرف سے با قاعدہ رسمی طور پر، پاکستان سفارت خانے کا نمائندہ جا کر یہ اعلان پڑھے۔چنانچہ جہاں تک میر اعلم ہے اس وقت پاکستان کے اُس وقت کے سفیر بھی وہاں موجود تھے مہمان خصوصی کے طور پہ اور اُن کی موجودگی میں پاکستان ایمبیسی کے کسی نمائندے نے یہ اعلان پڑھا۔اعلان یہ تھا کہ پاکستان کی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ قادیانیت کے کینسر کا قلع قمع کیا جا سکے۔اور باتوں کے علاوہ یہ تحدی اور یہ ارادے ہیں احمدیت کو نیست و نابود کرنے کے جن پر وہ قائم رہے اور لفظ کینسر کے ذریعے انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج کوئی نہیں ہے۔پس جب کوئی کینسر کا مریض ہو جائے اور اُس کو خدا پر اعتماد نہ ہو تو وہ یہی سمجھتا ہے کہ یا وہ مارا جائے گا یا ڈاکٹر اُس کو کاٹ کر الگ پھینک دیں تو صدر ضیاء الحق صاحب کے پاس بھی تو دعا کا تو کوئی علاج نہیں تھا، وہ تو چارہ ایسا تھا نہیں جو وہ کر سکتے۔چنانچہ اُن کی ایک ہی راہ تھی کہ وہ اس کینسر کو کاٹ پھینکنے کے عزم کا اعلان کرتے۔چنانچہ وہ اعلان ساری دنیا کے سامنے کیا گیا۔اس کے بعد کچھ مظالم کے سلسلے جاری ہوئے کیونکہ یہ فرضی اعلانات نہیں تھے۔صدرمملکت