خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 370
خطبات طاہر جلدے 370 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء خدا کو کبھی سجدہ نہیں کیا، نہ آئندہ کبھی کوئی احمدی کسی فرضی خدا کو سجدہ کرے گا۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ ” جو کوئی اُن کے آمرانہ احکام کو نہیں مانتا اُس کے لیے پھانسی گھاٹ ہے ، کوڑے ہیں اور قید خانے ہیں“۔یہ وہ پس منظر تھا یعنی حکومت کی بلا رادہ کوششوں کا پس منظر جس کے بعد رونما ہونے والے واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ جو کچھ احمدیت کے متعلق بد ارادوں کا اظہار کیا گیا تھا اُن کو پورا کرنے میں کمی نہیں کی گئی بلکہ جو کچھ اظہار کیا گیا اُس سے بڑھ کر کرنے کی کوشش کی گئی۔احمدیوں کو اُن کے تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا۔خدا کا نام لینا جرم ہو گیا کسی کو سلامتی کی دعا تک دینا جرم ہو گیا ، اذان کی آواز بلند کرنا جرم ہو گیا۔یہ اعلان جرم ہو گیا کہ خدا ایک ہے اور اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، یہ اقرار جرم ہو گیا کہ محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں، قرآن کی تلاوت جرم بن گئی کلمہ شہادہ کا بیچ سینے پر لگانا جرم ہو گیا۔یہ جرم ہو گیا کہ مساجد کی پیشانی پر تو حید باری تعالیٰ کا اعلان سجایا جائے۔یہ قرار پایا کہ سب جرائم ایسے سنگین ہیں کہ ان سے کسی طرح بھی چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔یہ اعلان کیا گیا کہ یہ سب جرائم مسلمانوں کے نازک مذہبی جذبات کو کچلنے والے اور زخمی کرنے والے ایسے جرائم ہیں جو سنگین دل آزاری کی ذیل میں آتے ہیں۔یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایسے امور اگر کسی بھی رسالے میں شائع ہوں تو اُس رسالے کو ضبط کر لیا جائے۔اُس رسالے کے مینیجر اور ایڈیٹر کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں اور اگر کسی کتاب میں ان باتوں کا ذکر کسی احمدی کی طرف سے شائع ہو تو اُس کے خلاف بھی اسی قسم کے سنگین اقدامت کیے جائیں۔یہ تقدیر جاری کی گئی کہ اگر احمدی سیدنا ومولانا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سیرت کے گن گائیں تو اُن کے خلاف تعزیرات پاکستان کے تحت ہتک رسول کے مقدمات درج کیے جائیں جن کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے۔یہ تمام اقدامات کیے گئے اور اسلامی انصاف کا ایک ایسا بگڑا ہواتصور دنیا کے سامنے پیش کیا گیا جو اسلام کے حسین چہرے کو انتہائی ظالمانہ طور پر بدزیب اور مکروہ اور ماؤوف کر کے دکھاتا ہے۔یہ اقدامات صرف ظاہری طور پر اُن جرائم کی سزا دینے پر منتج نہیں ہوئے جن کا میں نے ذکر کیا ہے بلکہ اس کے اور بھی بہت سے اثرات پیدا ہوئے جس کی وجہ سے تمام پاکستان احمدیوں کے لیے ایک انتہائی دردناک جیل خانے کی صورت اختیار کر گیا۔یہ روحانی اور مذہبی طور پر اور انسانی طور