خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 367

خطبات طاہر جلدے 367 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء میں اس سے پہلے میں چھیڑ بھی چکا ہوں۔اب میں مختصراً اُس آرڈینینس کے نتیجے میں جو مظالم جماعت پر ہوئے اور جو جو واقعات اُن مظالم سے تعلق رکھنے والے رونما ہوئے اُن سے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔آج کے خطبے میں کسی حد تک میں اسی مضمون کے اس حصے کو ادا کر سکوں گا۔سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صدر ضیاء الحق صاحب نے جب یہ آرڈینینس جاری فرمایا تو انہوں نے بعض وضاحتیں خود پیش کیں اور دنیا کو یہ بتایا کہ کیوں آخر وہ ایسا بظاہر جاہلانہ انتہائی احمقانہ آرڈینینس پیش کر رہے ہیں اس کے پیچھے کوئی حکمت ہونی چاہئے۔تو اُن کے الفاظ میں اس آرڈینینس کا پس منظر کیا تھا۔اُن کے ذہن میں وہ کون سے محرکات تھے جو اس آرڈینینس کو جنم دینے پر منتج ہوئے ، اُن کے متعلق وضاحت کی۔سب سے پہلے چند دن بعد ہی یعنی ۵ رمئی ۱۹۸۴ء کو آپ نے یہ بیان جاری فرمایا کہ میں مسلمان ہوں اس حیثیت سے ہر وہ فیصلہ کروں گا جس کا اسلام نے حکم دیا ہے۔قادیانیوں کے متعلق فیصلہ نفاذ اسلام کے کا ایک حصہ ہے، میں ایک خادم اسلام کی حیثیت سے اسلام کو ہر شعبے میں نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔یہ پہلا پیغام تھا قوم کے نام آرڈینینس کے نفاذ کے بعد جس میں انہوں نے وضاحت فرمائی اور عملاً واقعہ یہ ہے کہ جب آپ اس بیان کی روح معلوم کرنے کی کوشش کریں یعنی اس بیان کا مقصد دراصل کیا تھا۔تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ چونکہ انہوں نے اپنی دانست میں ایک ایسا آرڈینینس جاری کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ قوم میں بے حد ہر دلعزیز ہو چکے تھے اور جس کے نتیجے میں اُن کی اسلامی شخصیت بڑی نمایاں طور پر قوم کے سامنے اُبھری تھی۔اس لیے اُس شہرت کی دھوپ میں نہانے کے طور پر انہوں نے یہ پیغام دیا۔جس طرح انگریزی میں کہا جاتا ہے کہ شہرت کی دھوپ میں بعض لوگ نہاتے ہیں اور لطف اُٹھاتے ہیں کپڑے اتار کر باہر بیٹھ جاتے ہیں کہ اس دھوپ سے اپنے بدن کو سینکیں اور زیادہ لطف محسوس کریں۔تو اُن کی جو سیاسی کیفیت معلوم ہوتی ہے اس بیان سے وہ یہی ہے کہ ایک آرڈینینس جاری کیا اُس کے بعد لطف اُٹھانے کے لیے اور قوم کو مزید یاد دلانے کے لیے کہ میں وہ مسلمان ہوں ، وہ مرد مجاہد ہوں جس نے اتنی عظیم الشان اسلام کی خدمت کی ہے اور پھر مزید وعدہ کیا کہ آپ فکر نہ کریں میں اب اس خدمت پر مستعد ہو چکا ہوں۔اب خدمتوں کا ایک سلسلہ جاری ہونے والا ہے اور آپ لوگ دیکھیں گے کہ کس طرح اسلام دن بدن میری صدارت میں یا میری ڈکٹیٹر شپ کے اندر ہر پہلو سے ہر شعبہ زندگی میں