خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 366 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 366

خطبات طاہر جلدے 366 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء جماعت واقف ہے اور جماعت ہی نہیں بلکہ تمام دنیا کم و بیش واقف ہو چکی ہے کیونکہ اُس کے متعلق جماعت احمدیہ نے یعنی عالمگیر جماعت احمدیہ نے ہر قسم کی کوششیں کر کے ہر قسم کے ذرائع کو کام میں لا کر ساری دنیا کو اُس کی تفاصیل سے آگاہ کرنے کی کوشش کی اُس کے بعد جو نتائج اُس کے پیدا ہوئے اُن سے آگاہ کیا اور مسلسل یہ سلسلہ ہر طرف جاری ہے اور دنیا کے چوٹی کے اخبارات نے بھی ، انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے اداروں نے بھی اور ایسے وکلاء نے بھی جو عالمی سطح پر شہرت رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے وقف کیسے ہوئے ہیں اپنے طور پر ، اُن سب نے اور اس کے علاوہ اور بھی مشرق و مغرب سے مختلف اخبارات اور بعض دانشوروں نے نظم و نثر میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اس بارے میں اور جہاں تک باشعور دنیا کا تعلق ہے ، ہم کسی حد تک یہ اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ باشعور دنیا کو جماعت احمدیہ کے مسائل سے متعلق اس سے پہلے یعنی گزشتہ چند سالوں سے پہلے کبھی اس دور میں حاصل ہونے والی واقفیت کے مقابل پر ہزارواں حصہ بھی واقفیت نہیں تھی۔یعنی جب سے جنرل ضیاء الحق صاحب نے یہ فرمان جاری کیا ہے اُس سے پہلے کی باشعور دنیا کو احمدیت کے متعلق کیا علم تھا اُس کا آپ جائزہ لیں اور کس حد تک وہ جماعت احمدیہ کے مسائل سے واقف تھی اور جماعت احمدیہ کے مقابل پر اُس کے مخالف اندرون اسلام طاقتوں نے کیا کیا حرکتیں کیں۔ان باتوں سے واقف تھی۔آپ حیران ہوں گے یہ دیکھ کر کہ دنیا کا عشر عشیر بھی ، ہزارواں حصہ بھی بلکہ شاید لاکھواں حصہ بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ، ہمارے مسائل سے واقف نہیں تھا۔پس اس دور میں خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو جوساری دنیا میں عظیم الشان خدمت کی توفیق بخشی ہے اور اپنے مظلوم بھائیوں کی آواز کو، ان کے مسائل کو ، جماعت احمدیہ کے مسائل کو دُنیا کے تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اس کے نتیجے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کا ایک بڑا باشعور طبقہ جس کا دنیا کے معاملات کو چلانے سے تعلق ہے یعنی خواہ وہ حکومت کے افراد ہوں ، خواہ حکومت سے باہر سیاسی دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں یا اخباروں میں لکھنے والے مقالہ نویس یا دانشور اور قسم کے ہوں، اُن میں سے ایک بھاری نمائندگی کو جماعت احمدیہ کے مسائل سے پوری طرح واقفیت ہو چکی ہے۔اس لیے اُس آرڈینینس پر تفصیلی بحث کی اس وقت ضرورت نہیں ہے اور وہ تفصیلی بحث