خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 351 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 351

خطبات طاہر جلدے 351 خطبه جمعه ۲۰ مئی ۱۹۸۸ء اُس کے نتیجے میں بھی ایک طرف سے آزادی دی جا رہی ہے، دوسری طرف سے آزادی چھینی جارہی ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں جو اقتصادی ترقی کے پروگرام ہیں وہ سارے کے سارے اپنے ساتھ اندرونی زنجیریں رکھتے ہیں ساری قوم جکڑی جاتی ہے۔اس مالی نظام کے تابع ، جس مالی نظام کے ذریعے یہ ملک کی حالت بہتر بنا رہے ہوتے ہیں اور کئی طرح سے جکڑی جاتی ہے۔امیر اور غریب میں تفریق بڑھتی جاتی ہے کبھی کم نہیں ہوتی اور بعض لوگ مزدور طبقہ بن کر نسلاً بعد نسل وہ پھر مزدور طبقہ بنتے چلے جاتے ہیں اور سرمایہ چند ہاتھوں میں اکٹھا ہوتا رہتا ہے اور سرمایہ حکمران بن جاتا ہے کیونکہ ان تمام ممالک کی سیاست میں ہر جگہ بلا استثنا سرمایہ کام کر رہا ہوتا ہے۔کوئی امریکہ کا پریذیڈنٹ ، پریذیڈنٹ نہیں بن سکتا جب تک اُس کے پیچھے سرمایہ نہ ہو۔کوئی یورپین ممالک کا باشندہ Parliament کاMember نہیں بن سکتا جب تک اُس کے پیچھے کوئی سرمایہ داری کا ہاتھ نہ ہو اُس کو قوت نہ دے رہا ہو اور بھی تفصیل سے آپ مطالعہ کر کے دیکھیں کہیں ظاہری طور پر کہیں مخفی طور پر کہیں براہ راست کہیں، بالواسطہ سرمایہ کاری حکومت پر قابض ہوتی ہے اور سرمائے کے نتیجے میں جو حکومت بنتی ہے وہ ہمیشہ سرمایہ داری کی حمایت کرتی ہے۔اس کے سوا کچھ اور بھی مناظر آپ کو دکھائی دیں گے۔عوامی موومنٹس کے ذریعے Leftist حکومتوں کا آنا لیکن اُس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاتا لیکن اُس میں بھی بہت ہی دھو کے ہیں اور بظاہر جن کو آپ سمجھ رہے ہیں کہ Leftist حکومتیں آگئی ہیں اُن کے پیچھے بھی سرمائے ہیں۔اگر اندرونی سرمائے نہیں تو بیرونی سرمائے ہیں اور اجتماعی طور پر یہ سارے نظام خود اپنے ملک کے باشندوں کو بھی غلام بناتے ہیں اور Leftist حکومت یعنی بائیں بازو کی حکومت بھی ہو وہ بھی اپنے مزدور کو اپنا غلام بناتی ہے اور اس رنگ میں جکڑتی ہے کہ ایک ہاتھ سے آزادی دے رہی ہے دوسرے ہاتھ سے آزادی چھین رہی ہے۔پھر سارا نظام سرمایہ کاری جو Imperialist ممالک میں ملتا ہے یا بونز واممالک کہہ لیں اُن میں ملتا ہے ہر جگہ آپ یہ دیکھ کر اگر آپ کے دل میں احساس ہے تو تکلیف محسوس کریں گے کہ انسان دن بدن Materialism کا غلام بنتا چلا جا رہا ہے محتاج ہوتا چلا جا رہا ہے دن بدن مادے کا اور اُس کے رحجانات غلام بن گئے ہیں۔مادہ پرستی اتنا بڑھ جاتی ہے کہ انسانی قدریں اُس کے تابع ہو جاتی ہیں اور یہ رحجان بڑھتے بڑھتے انسانی قدروں کو جکڑ دیتا ہے اور پھر اُن کا خون چوس جاتا ہے۔ایک ایسی