خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 350
خطبات طاہر جلدے 350 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء غلامی کی بعض قسموں کا ذکر فرمایا ہے اور فرمایا ہے غلامی کا یہ مطلب نہیں کہ واقعہ Colonialism کے ذریعے یا Imperialism کے کسی طریق سے قوموں کو غلام بنایا گیا ہو یا فردا فردا کسی کو بیچا گیا ہو تو وہ غلام بنتا ہے۔پس قرآن کریم بہت ہی بلند اور بہت ہی وسیع مضمون بیان فرما رہا ہے اور غلامی کی بعض قسموں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔فی ذاتہ قتصادی حالت کو بہتر بنانا اور دنیا کمانا قرآن کریم کی ان آیات میں پیش نظر ہے ہی نہیں ، وہ مضمون ہی نہیں ہے بلکہ ایک مختلف مضمون بیان ہو رہا ہے۔اب آپ دنیا کے فلسفے کو دیکھیں غریبوں کی بھوک مٹانا یا قوموں کو اقتصادی غلامی سے نجات بخشا یا قوموں کی اقتصادی بہبود کے لئے کام کرنا اور پھر قرآن کریم کی ان آیات کی روشنی میں اُس کا موازنہ کریں تو تب آپ کو سمجھ آئے گی کہ قرآنی مضمون کتنا بلند تر اور کتنا وسعت والا مضمون ہے اور دنیا کے فلسفے اور تصورات اُس کے سامنے کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ اُن کے اندر ایک اندرونی تضاد پایا جاتا ہے جس تضاد کو یہ قرآنی آیات حل کر رہی ہیں۔اب آپ غور سے دیکھئے ،غور کریں دُنیا کے حالات پر تو آپ کو معلوم ہوگا۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ غربت دور کرنے کے نام پر جتنی عالمی کوششیں ہو رہی ہیں وہ ساری کوششیں بالآخر ان قوموں کو غلامی میں جکڑ رہی ہیں جن کی غربت دور کی جا رہی ہے۔تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ فَكُ رَقَبَةٍ تو اصل مقصود تھا۔اگر فَكَ رَقَبَةِ ہی نہ رہے تو پھر غربت دور کرنا بے معنی ہو جاتا ہے کیونکہ غربت دور کرنا فَكُ رَقَبَةٍ کی خاطر ہونا چاہئے۔پھر اقتصادی طور پر آپ اشترا کی دُنیا پر نظر ڈال کر دیکھیں۔وہاں بھی غربت دور کی گئی ہے ایک فلسفے کے اطلاق کے ذریعے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس غربت دور کرنے کے نتیجے میں ہر فرد کوز نجیریں پہنا دی گئی ہیں اور انفرادی آزادی کا قلع قمع کر دیا گیا ہے۔اس لیے اشترا کی نظام خواہ بھوک دور کر رہا ہو وسیع پیمانے پر اور بہت مؤثر ہو اس پہلو سے۔اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ مؤثر ہے بھی کہ نہیں کیونکہ اس کے بہت سے پہلو ہیں جو تحقیق طلب ہیں۔لیکن فرض کریں کہ اشترا کی نظام اپنے دعاوی میں تمام تر صحیح ثابت ہو اور غربت اور فاقہ کشی اور احتیاج کا قلع قمع کر دے لیکن ساتھ ہی انفرادیت کو بھی ختم کر دے اور انفرادیت کو زنجیریں پہنا دے کیونکہ کمیونزم نام ہی اجتماعیت کا ہے۔کمیونزم کا مطلب ہے اشتمالی زندگی، اجتماعی زندگی جس میں فرد کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔تو