خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 327
خطبات طاہر جلدے 327 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء صلى الله بات کون سی ہے اور پھر اُس کو سُن کے اُس کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ تو عام معنوں میں اُن کی تعریف ہے اور اس کی تائید میں آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث ملتی ہے ۔ الحكمة ضالة المومن (ترندى كتاب العلم حدیث نمبر: ۲۶۱۱) حکمت کی بات مومن کی اپنی گم شدہ چیز ہے۔ جہاں سے بھی ، جس طرف سے بھی جس شخص سے بھی وہ حکمت کی بات پاتا ہے اُسے اس طرح قبول کرتا ہے جیسے اُس کی اپنی ہی چیز تھی جو کھوئی گئی تھی ۔ ضالہ گئی ہوئی اونٹنی یا اسی قسم کے اور جانور کوبھی کہتے ہیں جو بچھڑ جاتی ہے گم ہو جاتی ہے ، صحرا میں ۔ اُسے تلاش کرنے کے بعد جیسی خوشی ہوتی ہے۔ اُس طرح مومن کو ہر اچھی چیز پالینے سے خوشی ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میری ہی چیز تھی اور مجھے مل گئی ۔ اسی طرح یہ خدا کے مومن بندے ہر طرف سے اچھی باتوں کو قبول کرنے کے لیے مستعد رہتے ہیں۔ پھر دوسرے معنی خصوصیت رکھتے ہیں اور ان کا تعلق حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اقوال یا انبیاء کے اقوال یا اللہ کے کلام سے ہے۔ وہ لوگ جو خدا سے باتیں سن کر آگے بیان کرتے ہیں یعنی مذہبی امور ، نیکی کے امور بیان کرتے ہیں۔ وہ سارے اس آیت کی ذیل میں خصوصیت کے ساتھ آجاتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ تو ہمیشہ اچھی باتیں ہی کرتے ہیں۔ پھر یہ کیوں کہا گیا کہ خدا کے مومن بندے اُن کی باتیں سنتے ہیں فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ اُن میں سے پھر وہ اچھی باتیں چن لیتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہاں احسن کا لفظ افضلیت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اس خصوصیت کے ساتھ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جب وہ اچھی باتیں سنتے ہیں تو اچھی باتوں میں سے بھی ادنیٰ درجے کی اچھی باتیں قبول نہیں کرتے بلکہ اعلیٰ درجے کی اچھی باتیں قبول کرتے ہیں ۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ پر جو تعلیم نازل فرمائی گئی وہ مختلف طبقات کو ملحوظ رکھتے ہوئے مختلف انسانوں کی طاقتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادنی درجے کی بھی ہے یعنی نسبتاً ادنی درجے کی ، اپنے سے جب مقابلہ کیا جائے تو اُس کے مقابل پر ادنی درجے کی اور نسبتاً اعلیٰ درجے کی بھی ہے۔ کم سے کم فرائض بھی ہیں جن کو آپ ادا کر دیں تو دین کا ابتدائی حق ادا ہو جاتا ہے اور پھر زیادہ سے زیادہ کی تو حد کوئی دکھائی نہیں دیتی ۔ ہر انسان کی اپنی توفیق کے مطابق اُس کے احسن کا ایک معیار بنتا چلا جاتا ہے۔ جو انبیاء کا احسن ہے اُس تک تو عام بندے کی رسائی بھی نہیں ہوتی ، اُس کی نظر بھی نہیں پہنچتی اور جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا احسن ہے اُس تک پہنچنے کے لیے کامل غلامی کی ضرورت ہے، حضرت مسیح موعود کی آنکھ کی ضرورت ہے،ایک عاشق کامل کی صلى الله صلى الله