خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 326

خطبات طاہر جلدے 326 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ) ( الماعون : ۵-۶) ایسے نمازیوں پر ہلاکت ہے، ایسے نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے کہ جو نمازی تو ہیں مگر نمازوں سے غافل ہیں۔یعنی نمازیں جو نیک اثر پیدا کرتی ہیں اُن اثرات سے محروم ہیں یعنی نمازوں کا حق ادا کرنے سے غافل ہیں۔چنانچہ ایک ایسی تعریف بھی ایسے نیک بندوں کی کی گئی جن کی عبادتیں خدا کے ہاں مقبول ہوتی ہیں ، جو اپنا نیک اثر دکھاتی ہیں کہ بچے عبادت کرنے والے اور فرضی عبادت کرنے والوں کے درمیان یہ ایک نمایاں تفریق کرنے والی علامت بن جاتی ہے۔فرمایا :۔الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَيكَ الَّذِينَ هَاهُمُ اللهُ وَأُولَيكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ۔یہ وہ لوگ ہیں جو جب بھی کوئی بات سنتے ہیں توجہ سے سنتے ہیں اور پھر اُس میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔أُولَيكَ الَّذِينَ هَدهُمُ اللهُ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا ہدایت عطا فرماتا ہے۔وَ اُولَيكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ اور یہی صاحب عقل لوگ ہیں۔اس میں يَسْتَمِعُونَ القَولَ کو ہم عام معنوں میں بھی لے سکتے ہیں اور مخصوص معنوں میں بھی لے سکتے ہیں۔یعنی ایسے لوگ عادتاً، مزاجاً جو بھی اُن سے بات کہی جائے قطع نظر اس کے کہ بات کہنے والا کون ہے۔اس بات پر غور کرتے ہیں اور سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کہنے والے نے کیا کہا ہے۔محض کسی شخص کے بائیکاٹ کے نتیجے میں کسی شخص سے نفرت کے نتیجے میں وہ اُس کی بات سننے سے انکار نہیں کرتے۔وہ اچھی باتوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔چنانچہ فرمایا قطع نظر اس کے کہ بات کہنے والا کون ہے۔اُس کا ذکر بھی قرآن کریم نہیں فرماتا۔فرماتا ہے:۔يَسْتَمِعُونَ الْقَول ان کی عادت ہے کہ جب باتیں بیان کی جاتی ہیں تو وہ سنتے ہیں۔پھر فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ جو بُری باتیں ہیں اُن کو رد کر دیتے ہیں اُن سے اعراض کرتے ہیں اور جو اچھی بات اُن کو ہاتھ آجائے اسے اختیار کر لیتے ہیں۔جیسے ریت کو چھاننے والے سونا نکالتے ہیں۔بظاہر زیادہ وقت اُن کا ریت کے اوپر صرف ہورہا ہوتا ہے جس کو وہ الگ کرتے ہیں کیونکہ سونے کے مقابل پر وہ ہزاروں گنا زیادہ وزن رکھتی ہے اور بڑی محنت اُن کی ریت پر ہی صرف ہو رہی دکھائی دیتی ہے۔لیکن اُس کے نتیجے میں جو تھوڑا سا سونا اُن کے ہاتھ میں آتا ہے۔وہ اُن کی محنت کا کافی سے زیادہ بدلہ بن جاتا ہے۔تو فرمایا وہ ہر قسم کی بات سُن لیتے ہیں اور پھر تلاش میں رہتے ہیں کہ اس میں سے اچھی