خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 328 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 328

خطبات طاہر جلدے 328 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء ضرورت ہے۔اُس کے واسطے سے اُس کے ذریعے سے آپ کو اُس کی خبر مل سکتی ہے مگر اُس کی کیفیت کا اندازہ کوئی عام انسان نہیں کر سکتا۔اس لیے احسن کا مضمون یہاں بالکل اور معنی اختیار کر جائے گا۔مراد یہ ہے کہ پھر جب وہ اچھی باتیں سنتے ہیں تو اُن میں سے اپنی توفیق کے مطابق جو بہتر سے بہتر بات اختیار کر سکتے ہیں، وہ اُس کو اختیار کرتے ہیں۔اور ادنی پر راضی نہیں ہوتے اور اگر ادنی پر کوئی راضی ہو بھی جائے تو اُس پر حرف نہیں آسکتا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں آپ کے حضور ایک بدو حاضر ہوا اور اُس نے آکے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے یہ بتائیے کہ کم سے کم اسلام کیا ہے؟ اُس سے کم ہو نہیں سکتا وہ ضروری ہے۔آپ نے کم سے کم اسلام بتایا۔اُس نے کہا بس میرے لیے یہی کافی ہے۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے تمہیں خطرہ کوئی نہیں پھر۔(مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر (۱۲) اگر کم سے کم بھی کر لو تمہیں خطرہ کوئی نہیں ہے۔لیکن جو حضور اکرم ﷺ کے بچے عشاق تھے وہ درجہ بدرجہ احسن سے احسن کی تلاش میں رہتے تھے۔اپنی اپنی حیثیت، اپنی اپنی توفیق کے مطابق وہ بلند تر نظریں رکھتے تھے اور آنحضور ﷺ کی پیروی میں حتی المقدور کوشش کرتے تھے۔اس لیے یہاں اس کا مطلب یہ ہوا۔الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ که وہ جب خدا کے پاک بندوں کی باتیں سُنتے ہیں یا خدا کا کلام اُس کے بندوں کے ذریعہ سُنتے ہیں۔تو اُس میں سے بھی وہ بہترین کی تلاش کرتے ہیں اول الَّذِينَ هَا هُمُ الله یہ وہ لوگ ہیں جن کی ہدایت اللہ پر فرض ہے۔خدا نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اُن کو ضرور ہدایت دے گا وَ أُولَيكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے نزدیک صاحب عقل لوگ ہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ بے انتہا احسان ہے کہ اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو جماعت عطا فرمائی۔اُس پر یہ آیت چسپاں ہوتی ہے اور بعینہ صادق آتی ہے اور اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار کرنے والوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والوں میں ایک تفریق کر کے دکھاتی ہے۔چنانچہ آپ آفاقی نظر سے عالم اسلام میں جو کچھ ہورہا ہے اُس کو دیکھیں تو یہ نہایت ہی دردناک حقیقت آپ کے سامنے آئے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو چھوڑ کر باقی مسلمانوں میں دن بدن بد قسمتی سے یہ رحجان پیدا ہوتا چلا جارہا ہے کہ جب اُن کو بُری باتوں کی طرف بلایا جائے تو وہ لبیک کہتے ہیں اور دوڑ کر آگے آتے ہیں اور جب