خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 325
خطبات طاہر جلدے 325 خطبه جمعه ۳ ارمئی ۱۹۸۸ء جماعت احمدیہ کی پہلی صدی کے آخری رمضان کے آخری ایام خصوصی دعاؤں اور دکھی انسانیت کی خدمت میں گزاریں ( خطبه جمعه فرموده ۱۳ مئی ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت تلاوت کی: الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَيْكَ الَّذِيْنَ هَدبُهُمُ الله وَ أُولَيكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ ) ( الزمر : ١٩) پھر فرمایا: یہ آیت کریمہ سورۃ الزمر کی 19 ویں آیت ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے اس سورۃ کے شروع میں قرآن کریم میں راتوں کو اُٹھ کر عبادت کرنے والوں کا خصوصیت سے ذکر فرمایا ہے اور بار بار مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ (الاعراف: ۳۰) کا ذکر فرمایا ہے۔وہ راتوں کو اُٹھ کر عبادت کرنے والے جو اپنے دین کو خدا کی خاطر خالص کر لیتے ہیں۔اُن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کیا سلوک فرماتا ہے۔پھر اُس کے بعد قرآن کریم ان عبادت کرنے والوں کی بعض صفات بیان فرماتا ہے تا کہ اُن میں اور کھوکھلی اور سطحی عبادت کرنے والوں میں فرق ظاہر ہو جائے کیونکہ بسا اوقات راتوں کو اُٹھ کر عبادت کرنے والے ایسے طبقات سے، ایسے گروہوں سے بھی تعلق رکھتے ہیں جن کی عبادتیں اُن کی روح میں جذب ہو کر ان میں کوئی پاک تبدیلی پیدا نہیں کرتی۔چنانچہ قرآن کریم نے ایسے ہی گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے ،ایسے عبادت کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ