خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 324 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 324

خطبات طاہر جلدے 324 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء کرتے ہیں۔یعنی وہ صبح جو موت کی صبح ہے جب ایک نئی زندگی طلوع کرنے والی ہوتی ہے انسان پر۔اُس وقت بھی انسان کی توجہ استغفار کی طرف مائل ہوتی ہے بلکہ اُس وقت تو بڑے سے بڑے گناہ گار کی توجہ بھی استغفار کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔فرعون ایک بہت ہی بڑا گناہ گار تھا جو گناہ گاری میں ایک مثال بن گیا ہے ہمیشہ کے لیے اور گناہ گاری بھی ایسی جس میں بغاوت اور ضد اور تعصب ، ظلم اور جبر اور سب باتیں پائی جاتی تھیں۔آنکھیں کھول کر خدا سے ٹکر لینے والا یہ دعوے کرنے والا کہ ہوتا کون ہے خدا میں بھی ایک اونچی عمارت بنا کر دیکھوں گا تو سہی کہ وہ کہاں ہے اور کس قسم کی چیز ہے۔ایسی باتیں کرنے والا جب موت کو اپنے سامنے دیکھتا ہے تو اُس وقت کہتا ہے کہ میں آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِى أَمَنَتْ بِهِ بَنُو ا اِسراءیل (یونس:۹۲) میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں یا جن پر بنی اسرائیل ایمان لے آئے اس کی ذات پر ایمان لاتا ہوں۔اس کا جواب ہے آنٹی اب کون سا وقت ہے۔پس بِالْأَسْحَارِ هُمُ يَسْتَغْفِرُونَ کا ایک مضمون یہ بھی ہے کہ پھر وہ لوگ جو ساری زندگی ایسی صبحوں سے ناواقف بسر کرتے ہیں جن میں استغفار کی طرف توجہ پیدا ہوا کرتی ہے وہ بھی اس مضمون سے باہر نہیں رہتے۔چنانچہ ایک صبح اُن پر ایسی طلوع ہوتی ہے جو ان کی موت کی صبح ہے اور اُن کو ایک نئے جہان میں داخل کرنے والی صبح ہے۔اُس وقت بڑے سے بڑے گناہ گار بھی استغفار پر مجبور ہو جایا کرتا ہے لیکن چونکہ پہلی صفات سے وہ عاری ہیں۔اس لیے اُس وقت ان کو استغفار کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔پس استغفار میں ہمیں یہ بھی دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ ہمیں اُس صبح سے پہلے استغفار کی صجیں نصیب کر جن صبحوں میں استغفار کے معنے ہیں، جن صبحوں میں استغفار قبول ہوا کرتے ہیں اور ہمارے وجود سے متعلق نئی سے نئی شناسائی عطا فرما تا۔اپنی کمزوریوں پر خود ہماری نگاہیں زیادہ بار یک بینی کے ساتھ پڑنی شروع ہوں جو کمزوریاں غیروں کو نظر نہیں آتی وہ ہمیں دکھائی دینے لگیں۔یہاں تک کے ہر روز ہم نئے داغوں کو دور کرنے کے لیے تیرے حضور آنسو بہائیں نئی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے تجھ سے مدد مانگیں اور تجھ سے طاقت طلب کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے یہ رمضان ہمارے لیے استغفار کی نئی میں لے کر آئے اور دائمی صبحیں ہمارے لیے چھوڑ جائے۔آمین۔