خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 319 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 319

خطبات طاہر جلدے 319 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء پھر آپ کے پاس پہنچتے ہیں شروع میں اُن کے لیے دل کے گوشے نرم ہو جاتے ہیں، شروع میں آپ کے دل میں رحم پیدا ہوتا ہے۔آخر آپ اُن کی صورتوں سے بیزار ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں آیا یہ مصیبت لے کر۔اب پھر روپیہ کہیں ضائع کر بیٹھا ہے۔چنانچہ ایسے لوگ پہلے اپنی جائیداد میں تباہ کرتے ہیں۔پھر اُس کے بعد قرضے لے لے کر دوسروں کی جائیدادیں بھی تباہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ان لوگوں سے یہ دور بھاگتے ہیں۔تو استغفار کے مضمون بتا کر یہ بھی سمجھا دیا ہے کہ تم اپنی غلطیوں کی طرف بھی متوجہ ہو اور معلوم کرو کہ وہ کونسی کمزوریاں ہیں جن کے نتیجے میں تم نے مصیبت کے یہ دن دیکھے۔تیسرا اس میں یہ نصیحت بھی فرما دی کہ انسان کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی عادت اچھی نہیں ہے سائل کو ڈانٹنا تو جائز نہیں ہے، آپ نے ڈانٹا نہیں لیکن بختی۔اسے ورے، ورے رہتے ہوئے نرمی کے ساتھ جو بات سمجھائی جاسکتی تھی وہ سب سمجھا دی اور ایک استغفار کہہ کر یہ تینوں مضمون اُس پر کھول دئے گویا کہ کھولنے کی کوشش فرمائی کہ دیکھو تم انسان کے سامنے جو ہاتھ پھیلاتے ہو کہاں تک انسان تمہاری حاجت روائی کرے گا۔میرے پاس آئے تھے میرے پاس بھی ایک روپیہ ہی نکلا ہے۔میں اس سے زیادہ تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں اور ایسے اور بھی ہوں گے جن کے پاس ایک روپیہ ہو گا مگر وہ ایک روپیہ بھی نہیں دیں گے اور اُن کے لیے جائز ہوگا۔ایسے بھی ہوں گے جن کے پاس لاکھوں ہوں گے تب بھی اُس میں سے بھی ایک روپیہ نہیں دیں گے۔تو انسانوں کی طرف متوجہ نہ ہو خدا سے بخشش کے طالب رہو استغفار کرو اور یقین رکھو کہ استغفار کے نتیجے میں جیسے روحانی گناہ دھلتے ہیں اُس طرح عام دنیاوی لغزشیں بھی دھوئی جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا فضل اُن پر غالب آجاتا ہے اور اللہ مغفرت کا سلوک فرماتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تربیت یافتہ صحابہ استغفار کو کثرت سے مختلف رنگ میں استعمال فرماتے تھے۔چنانچہ اس میں ایک ایسی مثال میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو دلچسپی کی وجہ سے میں نے چینی ہے۔یہ مطلب نہیں کے ہر طالب علم اب یہی کام شروع کر دے جس کی میں اب بات کرنے لگا ہوں۔مگر یہ آپ کو بتانا چاہتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے تو کل کا کیا مقام تھا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جب وہ باتیں سنتے تھے تو کتنے کامل یقین کے ساتھ اُن پر پھر وہ عمل شروع کیا کرتے تھے اور ان کے لیے کوئی بھی Limit