خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 318

خطبات طاہر جلدے 318 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء اس سے دو باتیں سامنے آتی ہیں اول یہ کہ استغفار کے ذریعے قرضوں کے بوجھ اُتر سکتے ہیں اور استغفار کے ذریعے جو غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اُن کی معافی ہوسکتی ہے۔یہ قرضوں کے ساتھ ان معنوں میں تعلق ہے۔استغفار ایک معنوں میں گناہ کے بعد ہوتا ہے پس قرضے کی مثال ایسی ہی ہے پھر جیسے گناہ سرزد ہو چکا ہو۔آپ روپیہ لے بیٹھے اُس کو غلط مصرف میں استعمال کر بیٹھے۔ایسی تجارت میں ڈال دیا جہاں سے اُس کے واپس آنے کی کوئی امید باقی نہ رہی۔چھٹی پڑ گئی کسی لحاظ سے بھی آپ قرضوں میں مبتلا ہو گئے یہ سابقہ کے گناہ کی طرح ہے۔اگر سابقہ کی غلطیاں بخشی جاہی نہیں سکتیں تو پھر ایسے شخص کے لیے کوئی امید نہیں۔مگر وہ خدا جو گناہ بخشتا ہے اُس میں طاقت ہے اور وہ آپ کی ذاتی مادی کمزوریوں میں اور روزمرہ کے لیں دین کی کمزوریوں میں بھی اُسی طرح بخشش کی طاقت رکھتا ہے۔ایک بہت ہی عظیم الشان مضمون ہے جس سے خدا کی بخشش کا مضمون ثابت ہوتا ہے۔عیسائی جو یہ کہتے ہیں کہ خدا فی ذاتہ بخشش کی گویا طاقت نہیں رکھتا اُس کا بطلان ہے اس مثال کے ذریعے۔آپ قرضوں میں مبتلا ہیں جو غلطیاں کہیں پیچھے سرزد ہو گئیں جن تک اب آپ کی رسائی نہیں رہی۔جو کچھ ہو چکا ہو چکا آپ کی اپنی بے وقوفی تھی کسی دوست نے دھوکا دے دیا۔وہ ایسے حالات ہیں جو ماضی کا حصہ بن گئے آپ اُن کو تبدیل نہیں کر سکتے۔سوائے استغفار کے کوئی رستہ نہیں ہے۔اس لیے استغفار کے ذریعے جب آپ خدا سے رحم کے اور بخشش کے طالب ہوں گے اور خدا تعالٰی اس دنیا میں آپ کو ان مالی مشکلات سے نجات بخشے گا تو قطعی طور پر آپ اس بات پر زندہ ثبوت بن جائیں گے کہ اسلامی تعلیم سچی ہے اور عیسائیت نے خدا پر بدظنی کی تھی۔پس ان معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس مدد کے طالب کو کہا کہ خدا سے مدد طلب کرو اور خدا سے مدد استغفار کے ذریعہ طلب کرو۔دوسرا استغفار میں یہ مضمون ہے کہ اُن امور پر غور ضروری ہے جن کے نتیجے میں آپ نے ٹھوکریں کھائیں اور آپ کو معلوم بھی ہونا چاہئے کہ کیا غلطیاں ہوئیں تھیں۔یہ تو مناسب طریق نہیں ہے کہ بار بار آپ روپیہ ہاتھ میں پکڑیں اور پھینک دیں۔جیسے کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے اور پھر اپنے دوستوں سے مدد مانگتے رہیں ہر وقت یا خدا سے مدد کے طالب رہیں۔یہ عادت استغفار کے رحجان کے منافی ہے۔استغفار کی سچائی کے منافی ہے۔چنانچہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ آپ کے وہ دوست اور تعلق والے جو بار بار روپیہ ضائع کرتے ہیں