خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 309 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 309

خطبات طاہر جلدے ہے آپ فرماتے ہیں۔309 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء تمہارا یہ کام ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے آئندہ وعدوں کو یاد کر کے ترساں اور لرزاں رہو اور قبل از وقت سنبھل جاؤ ، نت نئی تو بہ کرو جوتو بہ کرتا ہے وہ نیکی کی طرف رجوع کرتا ہے۔جو تو بہ نہیں کرتا وہ گناہ کی طرف جاتا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس بندے سے محبت کرتا ہے جو بہت تو بہ کرتا ہے۔تو بہ نہ کرنے والا گناہ کی طرف جھکتا ہے اور گناہ آہستہ آہستہ کفر تک پہنچادیتا ہے۔پس وہ پہلے مضمون کو اس مضمون سے خلط نہیں کرنا چاہئے۔اسی لیے میں نے یہ اقتباس اُس پہلے اقتباس کے معا بعد رکھا ہے۔لکھا ہے کہ صلى الله ایک بار آنحضرت ﷺ کھڑے ہوئے پہلے بہت روئے اور پھر لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا یا عباداللہ خدا سے ڈرو آفات اور بلیات چونٹیوں کی طرح انسان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ان سے بچنے کی کوئی راہ نہیں۔بجز اس کے کہ سچے دل سے توبہ استغفار میں مصروف ہو جاؤ۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحه نمبر : ۶۰۷) قرآن کریم اس مضمون کو یوں بیان فرماتا ہے۔الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبيرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَاكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ اَنْتُمُ أَجِنَّهُ فِي بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ ۚ فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم :۳۳) کہ خدا کے وہ جو بندے کبائر گناہ سے اجتناب کرتے ہیں اور فواحش سے بھی۔لیکن ابھی کمزوری کی حالت میں ہیں یا جن کا نفس ان پر اس طرح غالب ہے جس طرح حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے۔اور کم میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں۔یعنی گناہوں سے اتنا دور نہیں