خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 308
خطبات طاہر جلدے 308 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء آنے والے تھے وہ مسجد میں بھی قابو نہیں پاتے تھے اپنے غصے پر اور ایک دم بلند آواز سے وہ اپنی ناراضگی کا اظہار کر دیا کرتے تھے۔بعض لوگوں کے ہاتھ کھلے ہوتے تھے وہ بچوں کو بھی فوراً چپیڑ ماردی اور دھکا دے دیا اور بعض صحابہ تھے جو بہت ہی نرم دل اور بچوں سے بھی اس طرح مخاطب ہوا کرتے تھے جیسے کسی اپنے بزرگ سے مخاطب ہو رہے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری فطرت کے تمام پہلوؤں پر نظر ہے اور حقیقت شناس نگاہ ہے۔ایک فرضی اور رومانی باتوں کا تعلق نہیں ہوا کرتا انبیاء سے۔آپ حقیقت کی بات بیان کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مزاج کے لوگوں کی بحث کر رہے ہیں کہ وہ جس مقام پہ بھی چلے جائیں اُن کی جو بنیادی فطری حالت ہے وہ ان کو نہیں چھوڑتی وہ بختی کے ساتھ اُن کی طبع ثانیہ بن چکی ہوتی ہے۔فرمایا ایسے لوگوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔اُن کا کام ہے کہ وہ توجہ کے ساتھ انہماک کے ساتھ اور صبر کے ساتھ استغفار کرتے رہیں۔پس یہاں اُن کی سچائی کا پیوند مبر کے ساتھ ہو جاتا ہے سبھی قرآن کریم میں و الصابرین سے مضمون کو یہاں شروع کیا ہے کہ صبر کا بھی استغفار سے ایک گہرا تعلق ہے۔وہ لوگ جن کی برائیاں دور نہیں ہو سکتیں اُن کا صبر یہ ہے کہ وہ استغفار پر صبر کریں اور بار بار اپنے نفس کو پہچانے اس کا تجزیہ کریں اور بار بار اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ اے خدا ہمارے بس میں یہ بات نہیں ہے تو اگر خاص فضل فرمائے تو ہماری بخشش بھی ہو سکتی ہے اور اگر تو اپنا اعجازی نشان دکھائے تو پھر یہ گہری کمزوریاں دور ہو سکتی ہیں فرماتے ہیں :۔پس خدا کا قانون قدرت یہ نہیں جو ٹھو کر کھانے والی طبیعتیں ہیں وہ ٹھوکر نہ کھاویں۔یا جو لوگ قومی بہیمیہ یا غصبیہ کے مغلوب ہیں اُن کی فطرت بدل جاوے بلکہ اُس کا قانون جو قدیم سے بندھا چلا آتا ہے یہی ہے کہ ناقص لوگ جو بمقتضائے اپنے ذاتی نقصان کے گناہ کریں۔وہ تو بہ اور استغفار کر کے بخشے جائیں۔(براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اصفحہ : ۱۸۷ حاشیہ ) پس یہ مغفرت کے عظیم ہونے اور ہر دوسری صفت پر خدا کی صفت غفوریت کے غالب ہونے کا ایک مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا۔جہاں تک تو بہ کا تعلق