خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 292

خطبات طاہر جلدے 292 خطبه جمعه ۲۹ را پریل ۱۹۸۸ء آدمیوں کا ذکر وہ کرتی ہیں جن کو میں ذاتی طور پہ جانتا ہوں اور جہاں تک خدا تعالیٰ نے مجھے فہم عطا فرما یا ہے میں جانتا ہوں کہ وہ منافق اور جھوٹے بہر حال نہیں۔اُس وقت مجھے سمجھ آتی ہے کہ ان بیچاروں کی بیداری کی حالت جزوی ہے۔بعض پہلوؤں سے بیدار ہو گئے ہیں اور اُن کو خلق نصیب ہو گیا ہے اور بعض پہلوؤں سے وہ سوئے ہوئے ہیں ابھی تک اور کسی دن اچانک وہ جاگ سکتے ہیں اگر دعا کی جائے اور اُن کو نصیحت کی جائے تو ہو سکتا ہے وہ اچانک جاگ اُٹھیں۔تو اس پہلو سے قارعہ ہم سب کے لیے ضروری ہے صرف خدا کے دشمنوں کے لیے نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے ضروری ہے اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا (الحدید : ۱۷) تو جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے کہ کیا یہ لوگوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ وہ اپنے گناہوں کے لیے بیدار ہو جائیں اور وہ محسوس کریں کہ وہ کیا کر رہیں ہیں کس حالت میں ہیں اور خدا تعالیٰ سے سچی توبہ کریں۔یہ وہ مضمون ہے جو بعض دفعہ قارعہ کی طرح لوگوں کے دل پہ ابھرتا ہے اور اُن کو بیدار کر دیتا ہے۔قارعہ سے مراد ہی یہی ہے وہ ایسی آواز جو دل ہلا دینے والی ہو جو خواب غفلت سے جگا دینے والی ہو، دروازے کھٹکھٹانے والی ہو۔بعضوں کی نیند کچی ہوتی ہے بعضوں کی پکی ہوتی ہے اور مختلف قسم کی قارعہ اُن کو چاہئیں بعض قارعہ دُکھوں کی صورت میں نازل ہوتی ہیں اور مصائب کی صورت میں نازل ہوتی ہیں اس لیے اُس وقت بھی ایک موسم آتا ہے استغفار کا اور خصوصیت کے ساتھ اُس وقت استغفار کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔تو اصل بات یہ ہے کہ مومن کو ایسی صبحوں کی تلاش میں رہنا چاہئے اور اپنے نفس کے محاسبے کا معیار بلند کرتے رہنا چاہیئے۔اس کا ایک تعلق ایک اور صبح سے بھی ہے جو لطافت طبع کی صبح کہلا سکتی ہے۔جتنا کسی شخص کی صداقت کا معیار بلند ہو اور اُس کی لطافت طبع کی صبح زیادہ روشن ہو اس حد تک وہ اپنے گناہوں کا جائزہ لینے کی زیادہ اہلیت رکھتا چلا جاتا ہے۔چنانچہ عام انسان کے گناہوں کے تصور اور ایک عارف باللہ ، ایک ولی کے گناہوں کے تصور اور ایک نبی کے گناہوں کے تصور میں اسی صبح کی روشنی کے تصور میں فرق پیدا ہوتا ہے۔آپ بجلی کی روشنی جب رات کو دیکھتے ہیں تو آپ سمجھتے ہیں کہ اتنی روشنی ہوگئی ہے کہ اس میں ہر چیز نظر آ جائیگی لیکن جب سورج کے وقت اُس روشنی کو دیکھیں تو وہ روشنی اندھیری نظر آتی ہے اُس میں کوئی نور نہیں آتی۔اسی طرح بعض دفعہ آپ چاندنی میں سمجھتے ہیں کہ ایسی روشنی ہے کہ ہر چیز کھلی صاف دکھائی دے رہی ہے اور جب آپ کوئی چیز تلاش کرنے لگیں تو اس وقت پتا چلتا