خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 291
خطبات طاہر جلدے 291 خطبه جمعه ۲۹ راپریل ۱۹۸۸ء ہوتی ہے کیونکہ ان کو اپنی بعض اور چیزوں کا احساس پیدا ہو جاتا ہے اپنی بعض اور کمزوریوں کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔تو یہ وہ جبیں ہیں جو خصوصیت کے ساتھ یہاں مراد ہیں۔اس پہلو سے آپ جب ایک عام انسان کے حالات کا جائزہ لیں تو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک اقتباس میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے جس سے میں نے یہ اخذ کیا ہے۔آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو گناہ کرتے بھی ہیں تو احساس نہیں ہوتا اور ان کا شعور اس حد تک مر چکا ہوتا ہے یا غفلت کی حالت میں ہوتا ہے کہ گناہ کرتے کرتے بھی ان کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔چنانچہ ایک موقع پر قرآن کریم فرماتا ہے فِي جَنْبِ الله (الزمر: ۵۷) کہ اللہ کے پہلو میں گناہ کر رہے ہیں لوگ اور ان کو کوئی خیال نہیں۔چنانچہ سب سے پہلے جو صبح طلوع ہوتی ہے ایک استغفار کرنے والے پر وہ اس کی ابتدائی حالت بالکل یعنی اس کو کہنا چاہئے۔Crude حالت ہے یعنی بعد کی حالتوں کے مقابل پر کثیف ہے اور لطافت کا وہ مقام نہیں رکھتی وہ تو گناہ کا احساس ہے جو عام گناہ ہیں عرف عام میں۔وہ گناہ جس کو ہم گناہ کبائر کہہ سکتے ہیں یا دوسرے بڑے بڑے گناہ بد اخلاقیاں وغیرہ ایسی جو غیر مذہبی دنیا میں بھی گناہ یا کمزوریاں کہلاتے ہیں ان کا احساس پیدا ہونا یہ پہلی صبح ہے جو انسان کو نصیب ہو تو وہ استغفار کی طرف مائل ہوتا ہے اس کے بعد ان صبحوں کی پھر کوئی حد نہیں رہتی اور انسان جوں جوں اپنے نفس میں ڈوبتا چلا جاتا ہے اپنے حالات کا جائزہ لیتا چلا جاتا ہے اس کو ہمیشہ اپنی بعض اور کمزوریاں دکھائی دینے لگتی ہیں جو اس کو پہلے نظر نہیں آیا کرتی تھیں بڑے بڑے بااخلاق لوگ ہیں جو بہت سی اخلاقی قدروں سے عاری بھی ہوتے ہیں اور جب دوسرے لوگ ان کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دیکھیں یہ کیسا منافق آدمی ہے با اخلاق ہے اُدھر سے با اخلاق ہے اور ادھر سے یہ حالت ہے۔چنانچہ وہ ان کے اخلاق کے دیگر دائروں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس مضمون کو نہیں سمجھتے کہ بیداری کی حالت ضروری نہیں کہ ہر جگہ ایک جیسی ہو۔بعض پہلوؤں سے زندگی کے بعض شعبوں میں انسان بیدار ہو جاتا ہے بعض دوسرے شعبوں میں سو بار ہتا ہے اور بیدار ہی نہیں ہوتا۔چنانچہ بعض دفعه بعض خواتین اپنے خاوندوں کے شکوے کرتی ہیں وہ لکھتی ہیں کہ بڑا وہ نیک بنا پھرتا ہے بڑا با اخلاق سمجھا جاتا ہے باہر اُس کا یہ حال ہے باہر اپنے دوستوں میں فدا اور قربانیاں کرنے والا اور ادھر یہ حال ہے کہ بیوی کا گلا کاٹتا، بچوں پر ظلم کرتا اور خشونت سے پیش آتا یہ تو منافق انسان ہے بعض ایسے