خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 293
خطبات طاہر جلدے 293 خطبه جمعه ۲۹ را پریل ۱۹۸۸ء ہے کہ اس چاندنی میں تو اتنا نور نہیں ہے۔اسی طرح صبح کی پہلی روشنی میں فرق ہے سورج نصف النہار کو پہنچ جائے اُس وقت فرق پڑ جاتا ہے یہ تو ہماری حدود ہیں جو مادی لحاظ سے ہیں۔روحانی لحاظ سے یہ مضمون اس سے بہت زیادہ منازل رکھتا ہے بلکہ لامتناہی کہنا چاہئے کیونکہ جس سورج سے ہم روشنی پاتے ہیں وہ خدا کا نور ہے اور اُس کی کوئی انتہا نہیں۔اس لیے وہ عالی ظرف لوگ یا وہ عارف با اللہ بزرگ اولیاء ہوں یا انبیاء ہوں اُن کے اندر درجہ بدرجہ احساس گناہ کا شعور اس صبح سے نصیب ہوتا ہے اور یہ میں اُن کو بھی مزید ملتی چلی جاتی ہیں اس کے لیے بھی اُن کا کوئی دائی مقام نہیں ہے اور جتنی وہ صبح روشن ہو جائے اتنا اُن کو وہاں گناہ دکھائی دیتا ہے جہاں عام انسان کو دکھائی ہی نہیں دے سکتا۔آپ حیران ہو کے دیکھتے ہیں کہ یہ اتنے بزرگ لوگ اور استغفار استغفار سارا دن صبح شام ہر وقت استغفار کرتے رہتے ہیں پتا نہیں کیا ہو گیا ہے ان کو گناہ کون سا انہوں نے کیا ہے اور جب وہ زبان اپنے متعلق استعمال کرتے ہیں تو جس طرح حضرت داوؤد نے زبور میں کی یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے کلام میں کی تو جاہل آدمی تو بعض دفعہ نفرت کی نگاہ ڈالنے لگتا ہے اچھا یہ مامور من اللہ بنا پھرتا ہے، یہ خدا کی طرف سے ہمیں نصیحت کرنے آیا ہے اور اپنا اعتراف یہ ہے کہ: کرم خا کی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار ( در تمین صفحه : ۱۲۵) پھر یہ غلیظ دنیا کہ کیڑے ٹھٹھا کرتے ہیں ان بزرگوں پر جن کی صبح کا تصور بھی ان کے ذہن میں نہیں کبھی آ سکتا۔اندھیروں کی مخلوق ہوتے ہوئے یہ روشنی کی مخلوق پر بنتے ہیں اور مذاق اُڑاتے ہیں کہ دیکھو ان کو وہ چیز نظر آرہی ہے اپنی۔وہ سمجھتے ہیں کہ جس گند میں ہیں اس نسبت سے بات کر رہے ہیں اور پھر ساتھ اس گناہ کو دیکھنے کے باوجود کہتے ہیں ہم مصلح ہیں ہم لوگوں کی اصلاح کی خاطر بھیجے گئے ہیں۔پھر وہ داؤد سے ٹھٹھا کریں یا اس زمانے کے امام سے حضرت امام مہدی سے ٹھٹھا کریں جو بھی صورت ہو جہالت یہ ہے کہ وہ رات کے رہنے والے ہیں اور صبح سے ناواقف ہیں اس لیے جب یہ فرمایا وَ المُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ تو یہ مضمون اس میں باندھا گیا ہے کہ اُن کو خدائی نئی سنجیں عطا کرتا چلا جاتا ہے اور ہر صبح ان کی کمزوریاں ان پر کو روشن کرتی چلی جاتی ہیں اور جتنا زیا دہ صبح کے بندے ہوں گے جتنا زیادہ خدا کے نور میں چلنے والے ہوں گے اتنا زیادہ ان کو استغفار کی