خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 287
خطبات طاہر جلدے 287 خطبه جمعه ۲۹ راپریل ۱۹۸۸ء وَالمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ چوتھی صفت ان کی یہ بیان فرمائی گئی کہ والمسنفِقِينَ انفاق کا مضمون یہاں اس لیے بیان فرمایا گیا کہ خدا تعالیٰ نے تو بہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے مضمون کو باندھا ہے یعنی وہ لوگ جو تو بہ کرتے ہیں اگر وہ خدا کی راہ میں خرچ کریں تو اس سے ان کی تو بہ کو تقویت ملے گی۔اس پہلو سے اس مضمون میں ایک نئی شان پیدا ہو جاتی ہے اور نئی وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔آپ کو اگر اپنا احساس ہے جوں جوں وہ احساس بڑھے گا آپ کی توجہ استغفار کی طرف مائل ہوگی لیکن وہ لوگ جو اپنے لیے استغفار چاہتے ہیں اگر اپنے بھائی کی طرف ان کی نگاہ نہ ہو، اپنے بھائی کے لیے ان کے دل میں ہمدردی نہ ہو، اپنے بھائی کے لیے ان کے دل میں نیک جذبات نہ ہوں تو ان کے استغفار میں طاقت پیدا نہیں ہو سکتی۔اس لیے ان کی ایک خاص خوبی بیان فرمائی گئی ان کا فیض عام ہوتا ہے اور محض خود غرضی کی وجہ سے وہ استغفار نہیں کرتے بلکہ ان کے احساس کے دائرہ میں بنی نوع انسان اور دیگر ذی شعور وجود داخل ہو جاتے ہیں۔ہر وہ چیز جس میں حس ہے ان کے احساس کے ساتھ متعلق ہو جاتی ہے اور ان کے دکھ دور کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔یہاں المتفقین سے مراد یہ ہے ان کی کمزوریاں دور کرنے کے لیے کوشش کرتے ہیں ، ان کے دکھ دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے دکھ بانٹتے ہیں۔غریب کا دکھ بانٹنے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ آپ غریب کے لیے صرف دکھ محسوس کریں۔غریب کا دکھ بانٹنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی خاطر کچھ آپ بھی غریب بنیں۔جو خدا نے آپ کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ اس کو دیں اور اس طرح دکھ بانٹا کرتے ہیں۔لفظوں میں نہیں دکھ بانٹا کرتے وہ ساری شاعری ہے یا افسانہ طرازی ہے کہ جی میں تمہارا دکھ بانٹنا چاہتا ہوں یا میں دکھ بانٹ نہیں سکتا۔یہ سب قصے ہیں۔قرآن کریم جو حقیقت کی کتاب ہے جو سچائیوں کی کتاب ہے اس نے اس مضمون کو کھول دیا ہے کہ دکھ بانٹے جاسکتے ہیں۔اپنے بھائی کی خاطر جب آپ تکلیف اُٹھاتے ہیں، جب اس کے دُکھ کو دور کرنے کے لیے جب اپنا وقت خرچ کرتے ہیں جب اُس کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے اُس پر محنت کرتے ہیں اس لحاظ سے التنفقین کا لفظ بہت وسعت اختیار کر جاتا ہے۔ایک ایسی خاتون جو بچوں کو قرآن کریم پڑھا رہی ہے ان کی کمزوری دور کرنے کے لیے وہ بھی المتفقین میں داخل ہو جاتی ہے، ایک ایسا شخص جو ہمیشہ غرباء کی خبر گیری میں رہتا ہے وہ