خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 286
خطبات طاہر جلدے 286 خطبه جمعه ۲۹ را پریل ۱۹۸۸ء والصدقین اور وہ بچے لوگ ہیں۔سچائی کا ہر نیکی سے ایک گہرا تعلق ہے لیکن استغفار کے ساتھ بھی اس کا ایک خاص تعلق ہے اس لیے یہاں الصُّدِقِین کے دوسرے معنوں کے علاوہ خصوصیت کے ساتھ ایک معنی چسپاں ہوں گے۔وہ شخص جو سچا ہو وہ اپنی کمزوریوں کے معاملے میں بھی سچائی کی راہ اختیار کرتا ہے اور اسی کو حقیقت میں اپنے گناہوں کے اعتراف کی توفیق ملتی ہے اگر ایک انسان جھوٹا ہو تو وہ اپنے گناہوں کے اعتراف کی توفیق ہی نہیں پاتا اور استغفار کے لیے ضروری ہے کہ استغفار سے قبل انسان اعتراف گناہ کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور اعتراف گناہ کرنے کی توفیق پاتا ہو۔پس یہاں صادق سے مراد خصوصیت کے ساتھ میں یہ مجھتا ہوں کہ وہ لوگ جو اپنی کمزوریوں سے باخبر رہتے ہیں اور اتنی ان کے اند رسچائی پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں پر خود پردہ نہیں ڈالتے جب خدا کے حضور کھڑے ہوتے ہیں تو خوب کھول کر اپنی کمزوریاں اس کے حضور پیش کرتے ہیں اور اپنی کمزوریوں کے معاملے میں کامل سچائی سے کام لیتے ہیں۔اس مضمون کو آپ اچھی طرح سمجھ جائیں تو معلوم ہوگا کہ بہت سے استغفار کرنے والے جو استغفار کے جواب سے محروم رہ جاتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے۔اس سلسلے میں میں دوبارہ پھر اس مضمون کو اٹھاؤں گا کچھ آگے چل کر کیونکہ بہت ہی اہمیت رکھنے والا مضمون ہے۔والقنتین آپ جب وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھتے ہیں تو دعائے قنوت کہنا ایک قسم کا ایک ہی مضمون کو دو دفعہ بیان کرنے والی بات ہے۔قنوت کے معنوں میں دعا اور عاجزانہ دعا شامل ہے۔اس لیے جب ہم کہتے ہیں وانقنتين تو مراد یہ ہے کہ ان کے اندر بہت ہی بجز پایا جاتا ہے اور الصدقین کے مضمون کو جس طرح میں نے بیان کیا ہے جب اس قنوت کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو اس وقت یہ مضمون اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔یہ لوگ جب اپنے گناہوں پر غور کرتے ہیں اور پوری صداقت کے ساتھ ان کو محسوس کرتے ہیں تو سارے تکبر ختم ہو جاتے ہیں۔خدا کے حضور پھر وہ بچھ جاتے ہیں۔اس طرح کھڑے ہوتے ہیں کہ کھڑے ہوتے ہوئے بھی قیام کی حالت میں بھی ان کی روح ایک سجدے کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور وہ گر جاتے ہیں خدا کے سامنے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ گناہ گار ہیں اور گناہ گاری کا احساس صداقت سے ملتا ہے اور اس احساس کے نتیجے میں وہ بجز پیدا ہوتا ہے جو سچا استغفار پیدا کرتا ہے۔