خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 288
خطبات طاہر جلدے 288 خطبه جمعه ۲۹ را پریل ۱۹۸۸ء بھی المتفقین میں داخل ہو جاتا ہے، ایک ایسا شخص جو بیماروں کی تیمارداری کرتا ہے وہ بھی المستنفِقِينَ میں داخل ہو جاتا ہے، ایک ایسا ڈاکٹر جو محض فیس کی خاطر نہیں بلکہ ایک تکلیف دور کرنے کی خاطر کسی کی مرض پر محنت کرتا ہے اور اُس کے لیے شفاء حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے یعنی اپنے رب سے شفا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ایسا ڈاکٹر بھی المتفقین میں داخل ہو جاتا ہے غرضیکہ منفقین کا دائرہ بہت وسیع ہے اور جتنا جتنا یہ دائرہ وسیع ہو گا اتنا اتنا استغفار کے اندر قوت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔یہ وہ باتیں ہیں جنہوں نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی استغفار کو ہر دوسرے انسان کی استغفار سے ایک الگ روح اور ایک الگ وجود بخش دیا اور ایک بالکل نیا مضمون پیدا کر دیا آپ کے استغفار میں کیونکہ آپ سے بڑھ کر صبر کرنے والا کوئی نہیں تھا ، نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔آپ سے بڑھ کر صادق کوئی نہیں تھا، نہ تھا، نہ ہے، نہ ہو گا۔آپ سے بڑھ کر قانت کوئی نہیں تھا، نہ تھا ، نہ ہے، نہ ہو گا اور آپ سے بڑھ کر منفق کوئی نہیں تھا ، نہ تھا ، نہ ہے اور نہ ہوگا۔اس پہلو سے ہر اس صفت میں آپ نے درجہ کمال حاصل کر لیا جو یہاں بیان ہوئی اور وَالمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ کا مضمون بھی سب سے زیادہ شان کے ساتھ آپ کے وجود پر صادق آیا اس لیے آپ کے استغفار میں سب دنیا کے لیے استغفار شامل ہوگئی۔قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ جس طرح خدا کے فرشتے مامور ہیں اس کے کمزور بندوں کے لیے استغفار کرنے پر اسی طرح حضرت اقدس محمد مصطفی امی یہ بھی مامور تھے کہ خدا کے کمزور بندوں کے لیے استغفار کریں اور جو کفارہ کا حقیقی اور سچا مضمون ہے وہ یہی ہے باقی سب قصے ہیں۔مسیحیت کا جو کفارہ کا تصور ہے بالکل بے معنی ہے یہی کفارہ ہے اصل میں کہ انسان جوان صفات کا مالک ہو جائے اور پھر دوسروں کے لیے اپنی روح کو اپنے وجود کو وقف کر دے اور اُن کا دکھ اپنائے ان معنوں میں کہ جہاں تک توفیق ہو وہ دکھ دور کرنے کی کوشش کرے اور جہاں تک وہ دکھ اُٹھا کر دور کیا جا سکتا ہے دکھ اٹھا کر دور کیا جائے۔آپ تکلیف میں مبتلا ہو کر بھی ایک دوسرے کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کی جائے۔یہ وہ سارے مضامین ہیں جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات میں اپنے درجہ کمال کو پہنچ گئے۔اس پہلو سے آپ کو تمام بنی نوع انسان کے لیے استغفار پر مامور فرمایا گیا اور خصوصیت سے مومن بندوں کے لیے اور خصوصیت سے ان کے لیے جو ان صفات میں آپ کے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔