خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 271
خطبات طاہر جلدے 271 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء سے کم اتنی سورتیں یاد ہونی چاہئیں کے وہ بدل بدل کر پڑھ سکیں اور چھوٹی چھوٹی سورتیں قرآن کریم کے آخر سے لی جاسکتی ہیں۔یہ موقع ہے آج کل اس وقت آپ گھر میں مل کر ا کٹھے روزے رکھیں اور بچوں کی تربیت کریں اور ان کو سورتیں یاد کرائیں۔معین سورتیں روز دی جاسکتی ہیں اور اس کا تلفظ بھی ساتھ بتانا پڑے گا کیونکہ یہاں تلفظ کی بہت کمزوری ہے۔بعض دفعہ جماعتیں لکھ کر بعض چھوٹے چھوٹے پمفلٹس تیار کر دیتی ہیں تر بیتی۔مثلاً ہو سکتا ہے انگلستان کی جماعت فوری طور پر بچوں میں بھی کچھ سورتیں چن کر ان کی اشاعت کا انتظام کرے، ان کا ترجمہ ساتھ شائع کر دے اور بعض دفعہ رومن Roman طرز تحریر میں اس کا تلفظ ادا کرنے کی بھی کوشش کی جاسکتی ہے مگر قرآن کریم ایسی چیز ہے جس میں تلفظ میں بہت زیادہ احتیاط چاہئے۔اس لئے محض رومن طرز تحریر میں اس کا تلفظ لکھنے پر آپ اکتفا نہ کریں بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ اس طریق پر جو لوگ یہ سمجھ لیں کہ ہمیں تلفظ آ گیا ہے بالکل غلط بھی پڑھ لیتے ہیں اور عربی زبان تو ایسی ہے جہاں زیر زبر کی غلطی یا لمبا اور چھوٹا کرنے کی غلطی کے نتیجے میں بالکل مضمون بدل جاتا ہے۔اس لئے جو سورتیں بھی آپ یاد کروانا چاہیں بچوں کو توجہ سے یاد کروائیں۔خود کروانی پڑیں گی گھروں میں اور اگر گھروں میں ماں باپ کو توفیق نہیں تو جماعتوں کو ایسے چھوٹے چھوٹے مراکز بنا دینے چاہئیں جہاں زیادہ بوجھ ڈالے بغیر رمضان شریف میں چندسورتیں یاد کروائی جاسکیں اور ان کا تلفظ بھی اچھی طرح سکھایا جا سکے۔رمضان میں جو مثبت اقدار ہیں ان میں ایک تو نوافل ہیں جن کا رمضان سے گہرا تعلق ہے دوسرے صدقات ہیں اور غریب کی ہمدردی۔یہ مضمون بھی بدقسمتی سے ان علاقوں میں یعنی مغرب کے علاقوں میں فراموش ہو جاتا ہے کیونکہ اکثر ایسا معاشرہ ہے کہ ضرورتیں حکومتیں پوری کر دیتی ہیں اور غربت کا جو تصور ہمارے ہاں ملتا ہے وہ یہاں دیکھنے میں نہیں آتا۔جو غریب ہیں وہ اور طرح کے غریب ہیں۔کچھ ایسے غریب ہیں جن کو لتیں پڑ گئی ہیں ڈرگز کی اور اس کے نتیجے میں وہ فاقہ کش بن گئے ہیں لیکن ڈرگز نہیں چھوڑیں گے یا شراب کے متوالے ہیں اور ان کا حال یہ ہے ایک دفعہ مجھے یاد ہے جب میں یہاں طالب علم تھا ایک شخص Hat ہیٹ لگا کے بیٹھا ہوا تھا زمین پر، اس کو میں نے کچھ پیسے دیئے اور میں حیران رہ گیا دیکھ کر کے فوراًوہ Pub اس کے پاس ہی تھی پیسے لیتے ہی Pub میں داخل ہو گیا یعنی شراب خانے میں۔تو بعد میں مجھے بعض دوستوں نے بتایا کہ یہ تو بیٹھتے ہی ہیں