خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 270 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 270

خطبات طاہر جلدے 270 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء دوستوں کو جتنی سورتیں یاد ہیں ان کو جمع کر کے یہ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ قرآن کریم اس وقت سننے کا موقع مل جائے۔اس ضمن میں ایک اور تربیت کے پہلو سے بھی غافل نہیں رہنا چاہئے۔ہمارے بہت سے ایسے ممالک میں پلنے والے بچے جیسے انگلستان یا دوسرے مغربی ممالک ہیں قرآن کریم کی بہت تھوڑی سورتیں حفظ کرتے ہیں اور میں نے جو سرسری جائزہ لیا ہے بعض دفعہ تو سوائے قــل هـو الـلـه کے ان کو کچھ بھی سورۃ یاد نہیں ہوتی اور یہ ایک بہت ہی نا پسندیدہ بات ہے۔احمدیوں کو جس حد تک قرآن کریم حفظ ہو سکے حفظ کرنا چاہئے اور بالعموم اتنی کوشش تو کرنی چاہئے کہ سارا قرآن کریم نہیں تو ایک پارہ کے برابر مختلف جگہوں سے حفظ ہو اور اگر اتنی بھی توفیق نہیں تو کم سے کم اتنی چیدہ چیدہ سورتیں یاد ہو جانی چاہئیں بچوں کو کہ وہ مختلف نمازوں میں مختلف سورتیں پڑھ سکیں۔اس کمی کی وجہ سے عموم اوہ احمدی جن کی تربیت اس لحاظ سے نہیں ہوئی وہ سورۃ فاتحہ کے بعد ہر رکعت میں قل ھو اللہ ہی پڑھ لیتے ہیں اور اس کے بعد ختم اور وہ بھی ایک ایسی Routine بن جاتی ہے کہ ان کو قل هو الله کی بھی کوئی سمجھ نہیں آتی کہ کیا پڑھ رہے ہیں۔تنوع سے ذہن بیدار ہوتا ہے۔جب آپ سورۃ فاتحہ کے بعد بدلتے ہیں سورتیں تو اس کے نتیجے میں توجہ خاص طور پر مرکوز ہو جاتی ہے نئے مضمون کی طرف۔اب یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ پھر سورۃ فاتحہ کا کیوں حکم ہے کہ وہ ہر رکعت میں پڑھی جائے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ ام القرآن ہے اور ہر دوسری سورۃ اس کے اندر شامل ہے لیکن سورۃ فاتحہ ہر سورۃ میں یا ہر آیت میں شامل نہیں ہے۔اس لئے سورۃ فاتحہ کے مضامین تو اتنے لامتناہی ہیں، اتنے وسیع ہیں کہ اگر ایک انسان غور کی عادت ڈالے تو ساری عمر غور کرتا رہے سورۃ فاتحہ کے مضامین اس کے لئے ختم نہیں ہو سکتے۔نسلاً بعد نسل قوموں کے لئے یہ مضامین ختم نہیں ہو سکتے۔قرآن کریم کی دیگر آیات میں بھی بہت گہرائی ہے، بہت وسعت ہے مگر جب قرآن کریم میں سے بعض کا بعض سے مقابلہ کیا جائے تو ہر ایک کے متعلق بعینہ ایک بات صادق نہیں آتی۔اس لئے سورۃ فاتحہ تو جان ہے نماز کی اور سارے قرآن کریم کا خلاصہ ہے اسے تو بہر حال ہرصورت میں ہر رکعت میں پڑھنا ہے مگر فرائض کی پہلی دورکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے بعد بچوں کو کم