خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 272

خطبات طاہر جلدے 272 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء Pub کے ارد گرد تا کہ جو خیرات ملے وہ اور اس کی کچھ پی لیں۔ایسے بھی غریب ہیں تو ہم ایسے غریبوں کے لئے تو صدقہ خیرات نہیں کرتے جن کے متعلق علم ہو کہ انہوں نے اپنی جان پر ظلم کرنا ہے ہاں لاعلمی میں جو چاہیں کریں۔تاہم یہ بات تو واضح ہے کہ ایسے ممالک میں صدقہ و خیرات کی اہمیت کا احساس نہیں رہتا اور ذاتی طور پر جو غریب کی ہمدردی پیدا ہوتی ہے اس میں کمی آجاتی ہے لیکن اگر ماں باپ بچوں کی بھوک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو یاد کرا نا شروع کریں کہ دنیا میں خدا کے بندے ایسے بھی ہیں جو شدید بھوک میں مبتلا ہیں، فاقہ کشی کر رہے ہیں ،غربت کا یہ حال ہے۔ایسی باتیں کرنی شروع کریں تو ان کے دل میں ہمدردی کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں اور پھر ان کو صدقات کی طرف متوجہ کریں اور ان سے کچھ لے کر وہ صدقات کی مد میں دیں۔بچے بہت ہی جلدی اثر قبول کرتے ہیں اور بعض دفعہ اتنا اثر قبول کرتے ہیں کہ انسان سمجھتا ہے کہ جتنی ضرورت تھی اس سے زیادہ انہوں نے رد عمل دکھا دیا ہے۔سب کچھ اپنا فورا پیش کرنے کے لئے بعض دفعہ آمادہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے آپ بچوں پر اعتماد کریں۔خدا تعالیٰ نے ان کے اندر نیکی کا بیج رکھا ہے، نیکی کی نشو ونما کے لئے بڑی زرخیز مٹی عطا فرمائی ہے۔خواہ مخواہ لاعلمی کے نتیجے میں یا عدم توجہ کے نتیجے میں رمضان آتا ہے اور چلا جاتا ہے اور آپ اس کو ضائع کر دیتے ہیں اور آپ کے بچے وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں۔بعد میں جب رمضان گزر جاتا ہے اس وقت صرف روزے رکھنا کام نہیں آتا کیونکہ روزوں کا وقت گزر چکا ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ بس روزے گئے اور سب باتیں ساتھ ہی ختم ہوگئیں۔لیکن جو نمازیں آپ ان کو پڑھا دیں گے، جو تہجد پڑھائیں گے، جو سورتیں یاد کرائیں گے، جو غریب کی ہمدردی ان کے دل میں پیدا کریں گے یہ رمضان کے ساتھ چلی جانے والی باتیں نہیں ہیں، میران کی زندگی کا حصہ بن جائیں گی ، ان کی زندگی کا سرمایہ بن جائیں گی۔اس لئے رمضان کو اولاد کی تربیت کے لئے خصوصیت سے استعمال کریں۔علاوہ ازیں بعض چیزوں سے منع ہونے کا حکم ہے وہ ساری باتیں وہی ہیں جن سے روزمرہ کی زندگی میں بھی پر ہیز لازم ہے۔مثلاً جھوٹ ہے ، لغو بیانی ہے، وقت کا ضیاع ہے لیکن بعض چیزیں روز مرہ کی زندگی میں کسی حد تک قابل قبول ہو جاتی ہیں اور یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان ہر چیز کو اپنے بہترین معیار کے مطابق ہر روز ادا کر سکے لیکن رمضان مبارک میں جب معیار بلند کیا جاتا ہے تو مراد یہ ہے کہ جب