خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 227
خطبات طاہر جلدے 227 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء کامیاب نہیں ہوگی اور قومی امتزاجات پیدا نہیں ہوں گے۔احمدیت نے مشرق اور مغرب کو جو اکٹھا کرنا تھا اور یک جان بنانا تھا وہ چیزیں خواب بن جائیں گی لیکن بہر حال ہم نے ہی کرنا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ ذمہ داری ہمارے سپرد کی ہے۔اس لیے میں امید رکھتا ہوں کسی جگہ کچھ دیر کے بعد ، کسی جگہ نسبتاً جلدی بالآخر انشاء اللہ تعالی اسلام کے اس عظیم الشان بلکہ حضرت محمد مصطفی می کے اس عالمی نور سے دنیا متمتع ہو اور اس نور میں رنگین ہو جائے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ - خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: نماز جمعہ کے نماز عصر جمع ہوگی اور اس کے کچھ عرصہ کے بعد جلسہ کی کارروائی ہوگی لیکن نماز عصر کے معابعد منتشر ہونے سے پہلے ہم نے کچھ جنازہ ہائے غیب کی نماز پڑھنی ہیں (1) سب سے پہلے فہرست میں موئے فورے پاہیمیا ہیں یہ ہمارے سیرالیون کے سیکنڈری سکول کے پرنسپل صاحب کے والد تھے، بزرگ انسان تھے ، جماعت احمد یہ میں شروع میں شامل ہونے والے بزرگوں میں سے تھے، ان کے متعلق ان کے بیٹے نے خط میں بڑے درد کا اظہار کیا ہے اور نماز جنازہ غائب کی بھی درخواست کی ہے۔(۲) ملک محمد نواز صاحب گوجرانوالہ جن کی 9 مارچ کو وفات ہوئی۔یہ گوجرانوالہ جماعت کے محاسب تھے ان کے ایک بیٹے ملک ناصر احمد آجکل جرمنی میں ہیں۔(۳) چوہدری محمد حسین صاحب گوندل دار الرحمت شرقی دو روز قبل ربوہ میں وفات پاگئے۔ان کی ایک بیٹی قمر رفیق کاہلوں صاحبہ جرمنی میں رہائش پذیر ہیں۔(۴) عزیز احمد صاحب مبشر احمد صاحب جنرل سیکریٹری امریکہ کے والد تھے۔۸۰ سال کی عمر میں امریکہ میں وفات ہوئی۔انکے متعلق یہ بتا نا مناسب ہوگا کہ یہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ کے بھائی بنے ہوئے تھے اور بچپن ہی سے ان کا بڑا گہرا تعلق تھا اور آپس میں بہت ہی محبت اور پیار تھا۔ان کے بیٹے مبشر احمد بھی اپنے باپ کے رنگ میں رنگیں ہوئے بلکہ بعض باتوں میں آگے بڑھے اور اب انہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے اور بڑے اخلاص سے جماعت کی خدمت کر رہے ہیں۔مبشر احمد آجکل جماعت احمد یہ امریکہ کے جنرل سیکریڑی بھی ہیں۔