خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 226 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 226

خطبات طاہر جلدے 226 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء حصہ نہیں رہتی ، فعال حصہ نہیں رہتی۔اس لئے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کسی شخص کے متعلق یا کسی خاندان کے متعلق یہ اعلان کر دیا جائے کے وہ جماعت احمدیہ کا حصہ نہیں ہے تو اس سے صرف یہ مراد ہے۔یہ مراد نہیں کہ وہ انگلی کی طرح انگلی کہلانے کا مستحق نہیں رہا۔انگلی ہو گی لیکن نظام سے کٹی ہوئی انگلی ، انگلی ہوگی لیکن وہ جو موت کی طرف حرکت کر رہی ہے اور سارے نظام سے تعلق جوڑ کر اس کو جو زندگی کا تحفظ حاصل تھا وہ اب حاصل نہیں رہا یہ اعلان ہے اور اس اعلان کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔سب دنیا اس حق کو تسلیم کرتی ہے اس میں کوئی نا انصافی کی بات نہیں۔بعض لوگ اپنی غلط فہمی سے یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جماعت احمدیہ کو حق ہے تو دوسروں کو کیوں یہ حق نہیں کہ آپ کو غیر مسلم قرار دے۔ہم ان کو بتاتے ہیں کہ ان کو یہ حق ہے کہ اپنے نظام کا حصہ ہمیں نہ بنے دیں لیکن ہمارے عقیدے کے خلاف ہمیں غیر مسلم نہیں کہہ سکتے اس لیے ایسے شخص کو جو نظام سے کاٹا جاتا ہے ہم غیر احمدی نہیں کہہ سکتے لیکن یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخص اب احمدی نظام کا حصہ نہیں رہا، خلافت کے نظام سے وابستہ نہیں رہا۔اس پہلو سے اب ہمارے پاس وقت اتنا نہیں رہا کہ بہت لمبا انتظار کریں تربیت میں۔بعض جگہ آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے اپنی جماعت کی Repotation بچانے کے لئے ، جماعت کے جو تصورات یہاں موجود ہیں باقی لوگوں سے مختلف اور خدا تعالی کے فضل سے بہت سارا طبقہ یہاں ہے جو سمجھ رہا ہے کہ ہم بظاہر پاکستانی ہونے کے باوجود مختلف بھی ہیں یعنی اعلی کردار کے لحاظ سے ہم میں ایک فرق ہے، ہندوستانی ہونے کے باوجود مختلف ہیں، بنگالی ہونے کے باوجود مختلف ہیں۔اس احساس کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔ایک یا دو یا دس یا ہیں خاندانوں کا نقصان تکلیف دہ ضرور ہو گا لیکن اس احساس کا مٹنا اُس سے ہزاروں گنا زیادہ تکلیف دہ ہے کہ جماعت احمد یہ اپنی اعلی قدروں سے محروم ہوتی چلی جارہی ہے، اپنی بین الاقوامی شہرت سے محروم ہوتی چلی جا رہی ہے۔جماعت احمدیہ کا جو عالمی مزاج ہے جس نے ساری دنیا کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا ہے وہ زخمی ہو گیا ہے۔یہ احساسات بہت زیادہ تکلیف دہ ہیں۔اس لئے یہ ایک ایسا قدم ہے جو کر وا صحیح ، تکلیف دہ صحیح مگر جماعت کو اب بہر حال اٹھانا پڑے گا۔لیکن اس سے پہلے میں سمجھتا ہوں کہ نظام جماعت کو بہت مستعدی کے ساتھ تربیت کی طرف غیر معمولی توجہ کرنی چاہئے اور اس سال کو جہاں دعوت الی اللہ کا سال منا رہے ہیں وہاں ساتھ ساتھ تربیت کا سال بھی بنائیں اس کے بغیر دعوت الی اللہ بھی