خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 219
خطبات طاہر جلدے 219 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء پاکستان سے آنے والے احمدی مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے مختلف علاقوں سے آنے والے ہیں اور بعض ایسی عادات بھی لے کر آئے ہیں جو اسلامی عادات نہیں ہیں بلکہ مقامی عادات ہیں من حیث المجموع اُن کو پاکستانی عادات بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں اس پہلو سے مختلف عادات پائی جاتی ہیں۔گجرات کا ایک اپنا مزاج ہے، اپنی تہذیب ہے اور سیالکوٹ کا ایک اپنا مزاج ہے اور ایک اپنی تہذیب ہے، جھنگ کا ایک اپنا مزاج ہے اور ایک اپنی تہذیب ہے اور بدقسمتی سے ان سب مزاجوں میں ایک بھاری عنصر ایسا داخل ہے جو اسلامی نہیں بلکہ واضح طور پر غیر اسلامی ہے اور ان سب مزاجوں میں ایک قدر مشترک بھی ہے جو نہ صرف یہ کہ اسلامی نہیں بلکہ اسلام کی دشمن ہے اور وہ جھوٹ کی عادت ہے۔اس کثرت کے ساتھ پاکستان کے معاشرے میں خواہ وہ گجراتی معاشرہ ہو یاسیالکوٹی ہو یا شیخوپوری یا کسی اور علاقے کا ہو جھوٹ داخل ہو چکا ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں رگ و پے میں جھوٹ سرایت کر گیا ہے۔ادنی ادنی باتوں پر بے وجہ جھوٹ ، بڑی باتوں پر بڑی سنجیدگی سے جھوٹ ، اُس سے بڑی باتوں پر منتظم جھوٹ ، سازش بنا کرجھوٹ، جھوٹے گواہ تیار کر کے جھوٹ اور جہاں جھوٹ بولا جانا ہے وہاں بھی پیسے دے کر یا دوسرے اثرات ڈال کر اُس شخص کو یا اُس عہد یدار کو بھی جھوٹ کے لیے آمادہ کرنا، یہ ایسی خوفناک خصلت ہے کہ اگر چہ یقینی طور پر اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسلام کی دشمن عادت ہے لیکن جب مغربی تو میں آپ کے اس مزاج کو دیکھیں گی اُن میں سے ہر ایک یہ تمیز نہیں کر سکے گا کہ یہ اسلامی معاشرہ نہیں بلکہ اسلام کا ایک دشمن معاشرہ ہے جو بدنصیبی سے بعض مسلمانوں نے اپنا رکھا ہے۔یا معاشرہ نہ کہیں تو بعض عادات اور خصال ہیں جو اسلامی نہیں بلکہ قطعی طور غیر اسلامی ہیں۔لیکن جب یہ لوگ اس پہلو سے آپ کا جائزہ لیتے ہیں یا آئندہ لیں گے تو ان کے اندر ایک رد عمل پیدا ہوگا جو کئی طرح سے اس بین الاقوامی امتزاج کی راہ میں خطرات پیدا کرتا ہے۔مختلف لوگوں کے مختلف رد عمل میں نے دیکھے ہیں، بعض کا رد عمل تو یہ ہوتا ہے کہ وہ پھر اسلام سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں یونہی فرضی باتیں ہیں کہنے کو کچھ اور ہے کرنے کو کچھ اور ہے، ان لوگوں کے خیالات جو قرآن اور حدیث کی طرف سے منسوب کر کے بتاتے ہیں وہ کچھ اور ہیں لیکن ان کے اپنے اعمال اتنے مختلف ،اتنے دور ہیں ان باتوں سے جو معلوم ہوتا ہے یہ ہم پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں ان کی باتوں کا